خطبات محمود (جلد 16) — Page 570
خطبات محمود ۵۷۰ سال ۱۹۳۵ء کوئی شخص ہمیں سمجھائے کہ کیا اس قدر کام کے بعد گیارہ ہزار بھی بچا کر اس کام پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔احرار نے دو مبلغ قادیان میں رکھ کر پچاس ہزار سے زائد کے چندہ کا حساب بے باق کر دیا ہے اور ہمارے متعلق وہ یہ خیال کرتی ہے اور بعض افسر اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اٹھائیس ہزار سے ہم نے یہ سب کام بھی کیا اور پھر گیارہ لاکھ اس میں سے نکال کر مسجد شہید گنج کے ایجی ٹیشن پر بھی خرچ کر دیا۔ایں چہ بوالعجیبست“۔حکومت کے بعض افسر بیان کرتے رہے ہیں کہ احرار کو پندرہ ہزار ماہوار چندہ آتا ہے۔کیا یہ لطیفہ نہیں کہ ہم تین ہزار ماہوار سے اس قدر بچت کرتے رہے بلکہ اصل سے بھی ہم نے رقم کو بڑھا لیا۔لیکن احرار پندرہ ہزار ماہوار کے باوجود شہید گنج کے بارہ میں کچھ نہ کر سکے۔جن لوگوں کے پاس پندرہ ہزار ماہوار آتا تھا وہ کیوں ہماری مزعومہ رشوتوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔احرار اور ان کے ہمنوا افسروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے پاس حسابات مکمل ہیں اور ہم یہ انہیں دکھا سکتے ہیں بشرطیکہ حقیقت کے ثابت ہونے پر حکومت ذمہ لے کہ اس کی طرف سے یہ اعلان کیا جائیگا کہ احرار نے بھی اور اس کے ان افسروں نے بھی جنہوں نے یہ الزامات لگائے تھے کہ یہ ایجی ٹیشن احمدیوں کے روپیہ پر چل رہا ہے، جھوٹے تھے۔اور اگر احراری یا ایسے معترض افسر چیلنج کو قبول نہ کریں تو میں سوائے اس کے کیا کہہ سکتا ہوں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ دوسرا الزام ہمارے متعلق یہ ہے کہ ہم نے سکھوں کو اُکسایا۔اس کا جواب ہمارے اور سکھ اخبارات کے تعلقات سے لگ سکتا ہے۔اگر تو یہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں تو بات صاف ثابت ہے لیکن اگر یہ نہیں اور فی الواقعہ نہیں بلکہ سکھ اور احراری اخبار ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں تو لوگ خود دیکھ لیں پانی کہاں مرتا ہے۔تیسرا اعتراض وہ ہے جس کا ذکر غالباً ایک احراری لیڈر نے سہارنپور یا منصوری میں ایک تقریر میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب گورنر کے پاس گئے اور کہا کہ خدا کے لئے احرار کو چُپ کراؤ اور پھر گورنر نے یہ سب کچھ کرایا۔یہ عجیب لطیفہ ہے کہ ایک طرف تو کہتے ہیں ہم نے سکھوں کو اُکسایا دوسری طرف کہتے ہیں حکومت کو اُکسایا۔تیسری طرف کہتے ہیں مسلمانوں کو اُکسایا اور اس کی چوتھی کڑی یہ ہے کہ احرار کو اُکسایا کہ خاموش رہو اور دفتر سے باہر قدم نہ رکھو۔