خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 52

خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۵ء ماتحت دوسرے کارکنانِ جماعت دوسرے افسروں سے ملے اور مسلمانوں کی مشکلات کو دور کیا۔اسی سلسلہ میں موجودہ گورنر صاحب سے بھی جب وہ ہوم سیکرٹری تھے ، در دصاحب ملے اور ہز ایکسی لنسی لارڈ ولنگڈن کے نے خود مجھے مشورہ دیا کہ میں ہوم سیکر ٹری صاحب سے خودملوں یا کسی اور آدمی کو بھیجوں اور وعدہ کیا کہ وہ انہیں فون بھی کریں گے۔چنانچہ درد صاحب ان سے ملے اور مسلمان کلرکوں کو اس ملاقات سے فائدہ بھی پہنچا اور انہوں نے گورنر ہونے سے پہلے ایسے قواعد تجویز کئے جو مسلمانوں کیلئے مفید ہیں مگر اس مدد دینے کا کیا نتیجہ نکلا یہی کہ آج سرکاری محکموں کے ملازموں میں سے کئی کیا محکمہ پولیس اور کیا دفاتر کے اور کیا دوسرے محکموں کے ہمارے خلاف حصہ لیتے ہیں۔بعض جھوٹی رپورٹیں کرتے ہیں اور بعض ہمارے مخالفوں کو چندہ دیتے ہیں۔یہ بدلہ ہے جو مسلمانوں کی خدمت کا ہمیں ملا۔مجھے یقین ہے کہ کل جب پھر ان پر مصیبت آئے گی تو وہ پھر ہمارے پاس امداد کے لئے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو وسیع حوصلہ دیا ہے، اس کی وجہ سے ہم پھر ان باتوں کو بھول کر ان کی امداد کریں گے لیکن کیا یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ آسمان پر خدا ہے جو ان کے حالات کو دیکھتا ہے۔اس کے مقابلہ میں گورنمنٹ ہے جس طرح میں نے مسلمانوں کے متعلق کہا ہے اسی طرح میرا یقین ہے کہ انگریز حکام کا بھی اکثر حصہ اچھا ہے۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں ہندوستانی افسر ہوں ، وہاں فساد ہوتے ہیں لیکن جہاں انگریز ہوں وہاں امن رہتا ہے اور جب بھی کہیں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں ، ہند و مسلم دونوں یہ مطالبے کرتے ہیں کہ انگریز افسر بھیجے جائیں۔پس جو چیز اچھی ہے اسے ہم برا نہیں کہہ سکتے مگر ۱۹۱۳ ء سے لے کر آج تک میں نے زندگی کا ایک اچھا حصہ اس کوشش میں صرف کر دیا ہے کہ انگریزوں کی نیک نامی اور عزت قائم کروں۔بڑے سے بڑا انگریز افسر جو زندہ موجود ہے اس امر کی شہادت دے سکتا ہے کہ میں نے اور جماعت احمدیہ نے حکومت کی مضبوطی کے لئے بہترین خدمات کی ہیں۔جب کا نپور میں مسجد کے متعلق جھگڑا ہوا تو مسلمانوں میں بڑا جوش تھا کہ حکومت مذہب میں مداخلت کرتی ہے۔اس وقت میری یہی رائے تھی کہ مسجد نہیں گرائی گئی بلکہ غسل خانہ گرایا گیا ہے اور یوں بھی میری یہ رائے ہے کہ مساجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بدل دینا سوائے اس کے کہ کوئی مسجد خاص طور پر مذہبی روایات کی حامل ہو جیسے بیت اللہ ہے۔یا سوائے ان مساجد کے جو مسلمانوں کی