خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۵ء پھر اس کے بعد ۱۹۲۷ء میں مسلمانوں کی لاہور اور مختلف علاقوں میں جو حالت ہوئی اُس وقت کون تھے جو آگے آئے۔ہم نے ہی اس وقت مسلمانوں کے لئے روپیہ خرچ کیا، تنظیم کی اور اس وقت ہر جگہ یہ چر چاتھا کہ احمدی بڑی خدمت کر رہے ہیں حتی کہ سر میلکم ہیلی (Sir Malcolm Hailey) نے جو اس وقت گورنر تھے مسٹرلنگلے (Lingley) سے جو اُس وقت کمشنر تھے مجھے خط لکھوایا کہ آپ تو ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیتے رہے ہیں آج کیوں اس ایجی ٹیشن میں حصہ لیتے ہیں اور میں نے انہیں جواب دیا کہ حکومت کی وفاداری سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کا غدار ہوں اور مسلمانوں کی خدمت سے یہ مراد نہیں کہ حکومت کا غدار ہوں میں تو دونوں کا بھلا چاہتا ہوں مجھے اگر سمجھا دیا جائے کہ مسلمان مظلوم نہیں تو اب اس طریق کو چھوڑنے کو تیار ہوں۔انہوں نے تحریر ا تو اس کا جواب نہ دیا مگر شملہ میں میں گیا تو چیف سیکرٹری نے جو غالباً ہمارے موجودہ گورنر تھے ، مجھے لکھا کہ لاٹ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور جب میں ان سے ملا تو زبانی گفتگو اس پر خوب تفصیلی کی مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا یہی کہ مسلمانوں میں سے ایک اثر رکھنے والے گروہ نے کہا کہ احمدیوں کا بائیکاٹ کرو یہ اصل میں ہمارے دشمن ہیں۔پھر سیاسی جدو جہد کا زمانہ آیا۔پہلے نہر ور پورٹ کے وقت اور پھر سائمن کمیشن کے وقت، پھر کانگرس کی مخالفتوں کے مواقع پر ہم نے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی ، اپنے پاس سے روپیہ خرچ کیا ، کتابیں لکھیں اور ہر رنگ میں مسلمانوں کی خدمت کی مگر اس کا یہی جواب ملا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں ان سے ہمارا سیاسی اتحاد بھی نہیں ہو سکتا۔ان کی بیویوں کے نکاح ٹوٹ گئے ، یہ مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہیں ہو سکتے ، اس وقت بھی ڈیرہ دون میں ، جموں میں اور بھی کئی مقامات پر یہی سوال شروع ہے۔غرض یہ انعام تھا جو مسلمانوں نے ہمیں دیا لیکن یاد رہے کہ میں جب مسلمان کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میرا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ سب مسلمان ایسے ہی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ ان میں ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو یقینا دلوں میں ہمارے لئے در در کھتے ہیں اور اس ظلم کی برداشت نہیں کر سکتے جو ہم پر ہو رہا ہے مگر وہ خاموش ہیں کیونکہ ان میں کوئی تنظیم نہیں۔اگر چہ ان کے دلوں کا درد ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور ہم پر مظالم کو کم نہیں کر سکتا لیکن ان کے دل کی ہمدردی کی بھی میں قدر کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیک بدلہ دے۔مسلمانوں کی ملازمتوں میں حق تلفی کا سوال آیا تو اس وقت بھی ہم نے ان کی حفاظت کی۔میں خود دو وائسراؤں سے ملا، میری ہدایت کے