خطبات محمود (جلد 16) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۵ء ہیں کہ انہیں بار بار توجہ دلائی جائے۔بدقسمتی یا خوش قسمتی سے وہ بڑے ہو جاتے ہیں، یا بڑے خاندانوں سے ان کا تعلق ہوتا ہے اور ان میں یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی ان کے پاس آئے اور انہیں شامل ہونے کے لئے کہے۔ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور مخلص بھی لیکن بہر حال اگر کا رکن ان کے پاس پہنچیں تو تعداد میں بھی ترقی ہوسکتی ہے اور ان میں سے اچھے کارکن بھی مل سکتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل جب بیمار تھے تو بعض دفعہ آپ کا جی چاہتا کہ تنہائی حاصل ہو اور لوگ چلے جائیں۔اس پر آپ اپنے ارد گرد بیٹھنے والوں سے فرماتے دوست اب تشریف لے جائیں۔آپ کے اس کہنے پر نصف یا تہائی کے قریب لوگ چلے جاتے اور باقی بیٹھے رہتے۔پانچ دس منٹ اور انتظار کرنے کے بعد جب آپ کی طبیعت پھر سکون اور آرام چاہتی تو آپ فرماتے دوست اب تشریف لے جائیں۔اس پر پھر کچھ لوگ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔میرا بار ہا کا تجربہ ہے اور میں نے بار ہا سنا ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل پھر کچھ انتظار کرنے کے بعد فرماتے اب چوہدری بھی چلے جائیں جس کا مطلب یہ ہوتا کہ میں نے کہا تھا چلے جاؤ مگر ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ حکم ان کے لئے نہیں دوسروں کے لئے ہے گویا وہ اپنے آپ کو چوہدری سمجھتے ہیں۔پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے آپ فرماتے کہ اب چوہدری بھی چلے جائیں۔چوہدری کا لفظ سن کر وہ بھی چلے جاتے ممکن ہے کہ کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہو کہ میں بھی تو آخر حضرت خلیفہ اول کے حکم کے باوجود وہیں بیٹھا رہتا ہوں گا تبھی تو مجھے حضرت خلیفہ اول کے یہ الفاظ سننے کا موقع ملا۔اس کے لئے میں بتا دیتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اول جب بھی میری موجودگی میں اُٹھنے کے لئے کہتے تھے میں فوراً اُٹھ کھڑا ہوتا تھا مگر حضرت خلیفہ اول مجھے خود بٹھا لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس سے تم مراد نہیں تم بیٹھے رہو اور اس طرح اس نظارہ کے دیکھنے کا مجھے موقع مل جاتا تھا۔تو اس قسم کے کچھ چوہدری بھی ہوتے ہیں جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ متواتر ان کے پاس پہنچ کر انہیں شامل ہونے کے لئے کہا جائے۔یہ سارے کے سارے بُرے نہیں ہوتے۔کچھ منافق بھی ہوتے ہیں مگر اکثر نیک اور مخلص ہوتے ہیں البتہ ان کو اس بات کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی انہیں شامل ہونے کے لئے کہے تب شامل ہوں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایسے پائے کے آدمی ہیں کہ اگر کوئی ہمیں شامل ہونے کی تحریک کرے گا تو شامل ہو نگے ورنہ نہیں ہونگے۔یہ کمزوری ہے مگر جہاں ایک کمزوری ان میں ہوتی ہے وہاں بیسیوں خوبیاں