خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 256

خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۵ء یہ سکیم بنا تا تھا کہ ایک بورڈنگ بناؤں، کبھی انصار اللہ قائم کرنے کی تجویز کرتا تھا مگر ان میں سے کوئی تجویز دل کو نہ لگتی تھی تب اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایسا دھکا لگایا کہ میں نے سمجھا اس وقت میں جو کچھ کہوں گا سب مان لیں گے پس یہ اللہ تعالیٰ نے اس مخالفت سے ہمیں کتنا بڑا فائدہ پہنچایا ہے کہ مغربی اثرات بلکہ ان مشرقی اثرات سے بھی جو مسلمانوں کی کمزوری کے زمانہ میں ان کے اندر پیدا ہو گئے تھے ہمیں بچا لیا۔ہماری جماعت کے ۹۷، ۹۸ فیصدی لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنی طرز زندگی کو بدل کر سادہ غذاء اور سادہ لباس اور سادہ زندگی اختیار کر لی ہے۔اگر چہ یہ ابھی ابتدائی قدم ہے مگر دھکے کون سے ختم ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک رستہ بتا دیا ہے جسے ہم ہیں سال میں معلوم نہ کر سکے وہ ایک دم بتادیا اور ابھی جو کمزوریاں باقی ہیں اور سوشل و تمدنی زندگی میں جو تغیرات ابھی ضروری ہیں، ان کے لئے اللہ تعالیٰ اور دھکے لگا دے گا۔ایسے دھکوں کے ساتھ ہمارا امتحان بھی ہو جاتا ہے کہ ہم ان سے کتنا متاثر ہوتے ہیں اور اپنے کام کو کس طرح کرتے ہیں پس یہ بڑے فائدہ کی چیز ہے۔میں تو جب ماضی پر غور کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمت کا ایک ایسا دروازہ ہمارے لئے کھول دیا گیا ہے جس کا شکریہ ہم ادا نہیں کر سکتے۔ہم میں جو امیر غریب کا امتیاز تھا ، بعض لوگ کئی کئی کھانوں کے عادی تھے ، عورتوں میں زیورات ، لیس و فیتے ، گوٹا کناری کا رواج تھا ، اسے دور کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔میں سوچتا تھا کہ ایک کو روکا جائے تو دوسرا کرے گا اور دوسرے کو منع کیا جائے تو تیسرا کرے گا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک ایسا رستہ کھول دیا کہ سب کو بچا لیا۔گو میں نے اس کے لئے تین سال کی میعاد رکھی ہے مگر جب نیکی کی عادت ہو جائے تو پھر خواہ پابندی اُٹھا بھی دی جائے اس پر عمل رہتا ہے اسی طرح جب دوستوں کو ان باتوں کی عادت ہو جائے گی پھر میں خواہ اس قید کو اُڑا دوں تب بھی وہ کہیں گے کہ یہ ہمارے فائدہ کی بات ہے اسے کیوں چھوڑیں۔ممکن ہے بعض واپس ہو جا ئیں اور یوں تو بعض کمز ور اب بھی ہوں گے۔ایسے لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اور اب بھی ہیں ایسے لوگوں کو چھوڑ کر باقی جماعت کا بیشتر حصہ ایسا ہے جس نے تغیر پیدا کر لیا ہے اور ایسا صحیح قدم ہم نے اُٹھایا ہے کہ خدا کا فضل ہو تو کامیابی یقینی ہے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ جب تک ہم ان اصولوں پر نہیں چلیں گے جن پر پہلے انبیاء کی جماعتیں گامزن ہوئیں ، اس وقت تک کامیابی محال ہے۔قرآن کریم میں بار بار یہ آیا ہے اور