خطبات محمود (جلد 16) — Page 255
خطبات محمود ۲۵۵ سال ۱۹۳۵ء ایک الہام ہے کہ لَا نُبْقِی لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِکرا یعنی جو گالیاں دی جا رہی ہیں ہم ان کا ذکر بھی نہیں رہنے دیں گے اس کا یہی مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ جب ساری دنیا تعریف کرنے لگ جائے گی تو گالیاں خود بخود بند ہو جائیں گی اور نہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کاغذی گالیاں باقی نہ رہیں گی وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی نقل کر دی ہیں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ گالیاں دینے والوں کی اولادیں تعریف کرنے لگ جائیں گی اور کہیں گی کہ ہمارے بڑے ایسے بیوقوف تھے کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کو گالیاں دیتے تھے۔پس اس میں اسی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اے ہمارے صحیح ! تُو اپنے کام میں لگارہ اور ان گالیوں کی طرف توجہ نہ کر کہ ان کو ہٹانا ہمارا ہی کام ہے اس لئے میں جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے مقصد کو نہ بھولے بلکہ ایک لحاظ سے تو ہمیں ان مخالفوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان کے ذریعہ ہمارے اندر بیداری پیدا ہوگئی مؤمنوں کو غفلت سے جگانے کے لئے کبھی اللہ تعالیٰ دشمن سے بھی کام لے لیتا ہے۔حضرت معاویہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ شیطان انہیں نماز کیلئے جگانے آیا ، واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ان کی آنکھ نہ کھلی اور صبح کی نماز باجماعت سے رہ گئے یا نماز کا وقت گزر گیا اور وہ سوئے رہے ، اس کا انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ سارا دن روتے رہے اور سارا دن سخت کرب میں گزرا۔دوسری رات وہ سوئے تو دیکھا کہ کوئی جگا رہا ہے وہ اُٹھے کشفی نظارہ تھا ، کوئی کہہ رہا تھا کہ اُٹھو نماز پڑھو۔جگانے والے سے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے کہا میں ابلیس ہوں۔آپ نے کہا کہ تیرا کام تو نماز سے روکنا ہے پھر تو نماز کے لئے کس طرح جگا رہا ہے۔اس نے کہا بے شک میرا کام تو روکنا ہی ہے مگر کل جو آپ کی نماز رہ گئی تو آپ اس قدر روئے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا دیکھو! میرے بندے کو کتنا صدمہ نماز چھوٹ جانے کا ہے اسے سو نماز کا ثواب دیا جائے اس لئے میں نے سوچا کہ اگر آج بھی سوئے رہے تو سونماز کا ثواب لے جاؤ گے اور میرا کام ثواب سے محروم رکھنا ہے اس لئے جگاتا ہوں کہ ایک کا ہی ثواب حاصل کر سکوا ورسو کا نہ پاسکو تو کبھی انسان کو مخالف کی طرف سے بھی نیکی کی تحریک ہو جاتی ہے اگر چہ وہ تو مخالفت نقصان پہنچانے کے لئے ہی کرتا ہے مگر اس میں مؤمن کا فائدہ ہو جاتا ہے ایک مدت سے میری خواہش تھی کہ جماعت کو اس روش پر چلاؤں جو صحابہ کی تھی اور ان کو سادہ زندگی کی عادت ڈالوں ، مغربی تمدن کے اثرات اور ایشیائی تمدن کے گندے اثرات سے بھی ان کو علیحدہ رکھوں مگر کوئی ایسی صورت نہ نکلتی تھی۔کبھی میں