خطبات محمود (جلد 16) — Page 257
خطبات محمود ۲۵۷ سال ۱۹۳۵ء اس قدر کرات و مرات سمس کا ذکر ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی سورۃ بھی کم ہی ہو گی جس سے یہ بات نہ نکلتی ہو کہ ہر نبی پہلے نبی کے طریق پر آتا ہے۔نبیوں کے ماننے والے پہلے ماننے والوں کے طریق پر ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے پہلے نہ ماننے والوں کے طریق پر، اور قرآن میں یہ بات اس قدر وضاحت سے بیان ہے کہ جس طرح سورج کا انکار نہیں ہو سکتا اس کا بھی نہیں ہو سکتا۔تو انبیاء کی جماعتوں کے دشمنوں کی شرارتوں میں بھی مشابہت ہوتی ہے اسی طرح مؤمنوں کا بھی ایک سا ہی حال ہوتا ہے اور ان اصولوں سے بھٹک کر کامیابی محال ہے جو پہلے انبیاء کے ماننے والوں نے اختیار کئے ہمیں ایک نہ ایک دن اسی طریق پر آنا ضروری تھا جس پر صحابہ چلے اور یہ خدا کا کتنا فضل ہے کہ وہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی زندگی میں ہی اس طریق پر لے آیا۔ابھی ہم میں سینکڑوں ہزاروں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کی موجودگی میں تغیر بہت محفوظ ہے۔بعد میں آنے والے ممکن ہے ایسا تغیر کریں جو نقصان کا موجب ہو جائے۔ان کی نیت تو نیک ہو مگر پھر بھی ایسا قدم اُٹھا بیٹھیں جو فساد کا موجب ہو جائے۔دیکھو ! عیسائیوں میں جب شہوت کا زور ہوا تو ان کے دینی پیشواؤں نے رہبانیت کی تعلیم دینی شروع کر دی۔قرآن کریم میں انکے متعلق آتا ہے وَرَهْبَانِيَةَ نِ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا انہوں نے نیک ارادہ کے ساتھ قوم کو گمراہی اور تباہی میں ڈال دیا۔اس لئے ہو سکتا تھا کہ بعد میں جو تغیرات ہوتے وہ خطرناک ثابت ہوتے۔ہم میں ابھی سینکڑوں ہزاروں وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے مستفیض ہونے کا موقع دیا ، ابھی بہت ہیں جنہوں نے آپ کے ہاتھوں میں پرورش پائی اور آپ سے براہ راست را ہنمائی حاصل کی اس لئے ہماری زندگی میں تغیر ہو جانا مناسب تھا ورنہ ابھی بہت سے ابتلاء آنے والے ہیں اور ان کے علاج بھی ہوتے رہیں گے اور اگر یہ تغیر ہماری زندگیوں میں نہ ہوتا تو بہت ممکن تھا کہ بعد میں جو قدم اُٹھایا جاتا وہ غلط ہوتا اور جماعت کیلئے تنزل کا موجب بن جاتا۔گو یہ کام ابھی ابتدائی حالت میں ہے مگر بہر حال ہم نے رستہ پالیا ہے۔میں اس جگہ یہ بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے جو سکیم بنائی تھی باوجود یکہ اس پر پانچ ماہ گزر چکے ہیں پھر ابھی تک ہم بجٹ بھی نہیں بنا سکے۔میں نے جس وقت مطالبات کئے تھے اُس وقت دفتر کا