خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 821 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 821

خطبات محمود ۸۲۱ سال ۱۹۳۵ء صحابہ کوڈ ہری تکلیف ہوتی تھی ہر گالی جو رسول کریم ﷺ کوملتی وہ بھی انہی کے دل پر پڑتی تھی۔اور وہ بھی جو خود ان کو ملتی بلکہ اپنی تکلیفوں کو وہ رسول کریم ﷺ کی تکلیف کے مقابل پر کچھ بھی نہ سمجھتے تھے۔وہ خود ساری عمر بھوکا رہنا پسند کر سکتے تھے مگر یہ امر اُن کی برداشت سے باہر تھا کہ رسول کریم علی پر ایک فاقہ بھی گزرے۔اُنکے عشق کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے کئی سال بعد جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے پن چکیاں آئیں جو بار یک آٹا پیستی تھیں۔جب پہلی دفعہ بار یک میدہ مدینہ میں تیار ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا تو آپ نے اُس کی روٹی پکوائی لیکن جب اس کا لقمہ حلق میں گیا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔آپکی کسی سہیلی نے پوچھا کہ آپ رونے کیوں لگیں یہ تو بہت نرم پچھلکے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایسی چکیاں نہ تھیں ہم پتھروں سے ہی آٹا پیتے تھے جو بہت موٹا ہوتا تھا اگر یہ میدہ اُس زمانہ میں ہوتا تو میں آنحضرت ﷺ کو اس کی روٹیاں پکا کر کھلاتی۔یہ اُس عشق کا ایک مظاہرہ تھا جو مؤمن اور مومنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے پیدا تھا۔اب تم دیکھو کہ تم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت سے کس قد رعشق ہے؟ کیا تمہارے گلے میں بھی ہر وہ نعمت پھنستی ہے جس سے احمدیت کو حصہ نہیں ملا۔ہماری دُنیوی نعمتیں اس وقت ہیں ہی کیا جنہیں ہم قربان نہ کر سکیں۔یورپ کا ایک ادنی لارڈ ہمارے کئی گاؤں خرید سکتا ہے اور یورپ کا ایک مزدور آسائش کے اس قدر سامان رکھتا ہے جو ہمارے ہاں کے نوابوں کو بھی میسر نہیں۔پس ہمارے پاس ہے ہی کیا جس کی قربانی ہم کو بوجھل معلوم ہوتی ہے۔اگر عشق ہو تو وہ کپڑے جن پر تم فخر کرتے ہوا اور وہ نرم بستر جن میں تم آرام کرتے ہو تمہیں کانٹوں کی طرح چھنے چاہئیں کیونکہ دین احمد کو وہ زینت میسر نہیں جو تم کو میسر ہے اور اسے وہ آرام میسر نہیں جو تم کو میسر ہے۔پس عشق پیدا کرو پھر تمہارے رستہ میں کوئی روک باقی نہیں رہے گی، کسی نصیحت کی بھی تم کو ضرورت نہ ہوگی اور ہر ضروری قربانی تم آپ ہی آپ کرتے جاؤ گے جس طرح پانی چشمہ سے آپ ہی آپ ابلتا چلا آتا ہے۔لیکن جب تک یہ فدائیت نہ ہوگی یہ ماریں پڑتی رہیں گی اور گالیاں ملتی رہیں گی پس ان کو بند کرنا یا جاری رکھنا تمہارے اپنے اختیار میں ہے جو گھوڑا اڑتا ہے اچھا سوار اُسے دور تک لے جاتا ہے تا کہ وہ تھک