خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 820 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 820

خطبات محمود ۸۲۰ سال ۱۹۳۵ء اتحاد و احساسات کے بغیر مذہب ترقی نہیں کر سکتے۔بے شک تمہارے امام کا نام مسیح ہے مگر عیسائیوں کی تاریخ پڑھ کر دیکھو۔آج اُن کے عروج کو دیکھ کر شاید کوئی خیال کرے کہ یہ پہلے ہی ایسے تھے۔لیکن کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان عیسائی تاریخ کا ایک صفحہ بھی آنسو بہائے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔ان کو ایسے مصائب پیش آئے کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر انہوں نے دلیری سے ان کو برداشت کیا اور امتحان کے وقت اپنی جانوں کو جان نہیں سمجھا اور مالوں کو مال نہیں سمجھا اور قربانیاں کیں اور وہی قربانیاں تو ہیں جو آج یورپ کو روٹیاں دلوا رہی ہیں۔جب یورپ کی عیاشی کو دیکھ کر غیرت الہی کی تلوار انہیں ہلاک کرنے کے لئے اٹھتی ہے تو اُن کے باپ دادوں کی روحیں سامنے آ جاتی ہیں جنہوں نے مذہب کی خاطر ز بر دست قربانیاں کی تھیں اور خدا تعالیٰ کے غضب کی تلوار جھک جاتی ہے۔یورپ کے عروج کا اس قدر لمبا عرصہ اُنہی قربانیوں کی وجہ سے ہے جو ان کے آباء نے کی تھیں۔اور خدا تعالیٰ انہیں ہلاک کرنے سے پیشتر انہیں موقع دے رہا ہے کہ اسلام قبول کر لیں۔کم سے کم تمہیں وہ قربانیاں تو کرنی پڑیں گی جو عیسائیوں نے کیں۔ہمارے سلسلہ کے بانی کو بے شک بروز محمد ﷺ بھی کہا گیا ہے لیکن کیا آنحضرت ﷺ کو مکہ کی تیرہ سال کی زندگی میں کم قربانیاں کرنی پڑیں ؟ پھر کیا مدینہ میں آپ کی قربانیاں کم تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر میں خالی مسیح ہوتا تو مجھے صلیب دے دیا جاتا مگر میرا انحصار محمد ( ﷺ ) پر زیادہ ہے اور تم لوگ محمد ﷺ کے نام کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔کے بے شک آپ بروز محمد بن کر آئے مگر ساتھ مسیح بھی تھے اس لئے ہماری قربانیاں کم سے کم دونوں کے درمیان میں آنی چاہئیں بلکہ میرا تو خیال یہ ہے کہ صحابہ کرام کی قربانیاں مسیحیوں سے زیادہ شاندار تھیں۔اس لئے کہ اُن کو دُہرا زخم لگتا تھا۔ایک اپنا زخم اور دوسرا وہ جو آنحضرت ﷺ کو گایا جاتا ہے۔عاشق کے لئے معشوق کا زخم زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ایک صحابی کا قصہ میں نے بار ہا سنایا ہے وہ مکہ میں قید تھے اور کفار نے اُن سے کہا کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمد ﷺ یہاں تمہاری جگہ قید ہوں اور تم مزے سے گھر میں بیٹھے ہو؟ انہوں نے جواب دیا میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں گھر میں بیٹھا ہوں اور محمد عے کے پیر میں مدینہ کی کسی گلی میں ہی کا ننا چبھ جائے۔پس صحابہ کو جو عشق رسول کریم ﷺ سے تھا۔اُسے دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت مسیح ناصری سے زیادہ لمبا عرصہ تک تکالیف اُٹھانی پڑیں ، ماننا پڑتا ہے کہ