خطبات محمود (جلد 16) — Page 819
خطبات محمود ۸۱۹ سال ۱۹۳۵ء خیال مت کرو کہ جو میں نے کہا ہے ، وہ میری طرف سے ہے بلکہ یہ اُس نے کہا ہے جس کے ہاتھ میں تمہاری جان ہے میں اگر مر بھی جاؤں تو دوسرے سے یہی کہلوائے گا اور اس کے مرنے کے بعد کسی اور سے۔بہر حال چھوڑیگا نہیں جب تک تم سے اس کی پابندی نہ کرا لے۔یہ پہلا قدم ہے اور اس کے بعد اور بہت سے قدم ہیں یہ سب باتیں قرآن مجید میں موجود ہیں اور جب تم پہلی باری پر عمل کر لو گے تو پھر اور بتائی جائیں گی۔لیکن جب تک ان پر عمل نہ کرو اور نئی کس طرح پیش کی جاسکتی ہیں۔آخر میں میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ سستیوں اور غفلتوں کو دُور کرو، اپنے اندر بیداری پیدا کرو، ہر تحریک میں طاقت کے مطابق حصہ لو۔مگر طاقت کا اندازہ وہ نہ کرو جو منافق کرتا ہے بلکہ وہ کرو جو مو من کرتا ہے۔چندہ اور امانت فنڈ دونوں میں حصہ لو اور سادہ زندگی اختیار کرو کہ وہ نور بخشنے والی ہے۔جو اسے اختیار نہیں کرتا وہ سمجھ لے کہ اس کے لئے جہنم تیار ہے۔کوئی بات میں نے ایسی نہیں کہی جس کی کل کو ضرورت نہیں پیش آنے والی۔جب وقت آئیگا تو وہ لوگ جنہوں نے مان کر عمل کیا دعائیں دیں گے کہ خدا بھلا کرے جس نے ہمیں اس وقت کے لئے تیار کر دیا تھا اور نہ ماننے والے اپنے آپ کو لعنت کریں گے۔احمدیت اسلام کا نام ہے جس طرح اسلام نے تلوار کے سایہ میں پرورش پائی تھی۔اسی طرح جب تک دنیا کا چپہ چپہ احمدیوں کے خون سے رنگین نہیں ہوتا احمدیت ترقی نہیں کر سکتی۔اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے بغیر ہی ترقی حاصل ہو جائے گی تو تم سے زیادہ بے وقوف ، دھوکا خوردہ اور پاگل دنیا میں اور کوئی نہیں۔ہر ملک میں اور ہر علاقہ میں تمہیں ہر طرح کی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔اور اس کے لئے جو سپاہی آپ مشق نہیں کرتا وہ کل جان کب دے سکے گا۔یہ سپاہیانہ مشقیں ہیں اور وہ دن آنے والا ہے کہ جب تم سے کہا جائیگا کہ اپنے وطن کو چھوڑ دو، سب اموال حاضر کر وہ تمہیں بھوکا رہنا پڑے گا اور ہر طرح کی تکالیف اٹھانی پڑیں گی اور ان کے لئے تم میں سے ہر ایک کو تیار رہنا چاہئے۔کیا تم یہ پسند کرو گے کہ افغانستان میں تمہارے بھائی فاقے کریں اور تم چین سے زندگی بسر کرو؟ چین میں تمہارے بھائیوں پر ظلم ہو اور تم امن میں رہو ؟ تمہارے اندر تو یہ ایمان ہونا چاہئے کہ اگر چین میں احمدیوں کو قتل کیا جار ہا ہو تو تمہاری گردنیں یہاں ہی خم ہو ہو کر اُن تلواروں کو اپنی گردنوں پر لینے کے لئے بیتاب ہوں۔اگر کسی جگہ احمدی جماعت کو وطن چھوڑ نے پڑیں یا فاقے کرنے پڑیں تو تم کو اپنے گھر کانٹوں کی طرح معلوم ہونے لگیں اور روٹیاں تمہارے گلوں میں پھنسنے لگیں۔اس