خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 818 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 818

خطبات محمود ΔΙΑ سال ۱۹۳۵ء اشاعت دین اور نصرت ملت کے لئے مسلمان کریں۔پس یہ عذر بھی کسی کو اُس کی ذمہ داری سے بچا نہیں سکتا۔اس وقت جن راہوں سے اسلام کی مدد ہوسکتی ہے وہی اس وقت کا جہاد ہے پھر ذالكم خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔کاش ! تمہیں علم غیب ہوتا اور تم سمجھ سکتے کہ جس کام کے لئے تمہیں بلایا جاتا ہے وہ بہت اچھا ہے پھر فرمایا لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشَّقَّةُ - وہ ست لوگ جو اس وقت تیرے ساتھ چلنے کو تیار نہیں اگر ڈ نیوی نفع کا سوال ہوتا ، مال ملنے کی امید ہوتی اور سفر تھوڑا ہوتا تو یہ ضرور ساتھ ہو لیتے لیکن تو تو ان کو دُور کی منزل پر لے جانا چاہتا ہے۔مثلاً اخلاق میں انہیں بلند ترین چوٹی پر لے جانا چاہتا ہے، تبلیغ کے لئے دنیا کے کناروں تک پہنانا چاہتا ہے اور جنگ میں انتہائی فدائیت کا مطالبہ کرتا ہے اس لئے ان پر تیرا ساتھ دینا شاق گزرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ میری منزل بہت کٹھن اور راستہ پر خار ہے پس وہی میرے ساتھ چلے جو ان مشکلات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔جو قربانی کے لئے تیار نہیں اسے ساتھ چلنے کی ضرورت نہیں۔وَ سَيَحْلِفُوْنَ بِاللَّهِ لَوِسُتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ۔فرماتا ہے کہ یہ تمہیں کھائیں گے کہ اگر ہمیں طاقت ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔یہ لوگ یہ بہانہ بنا کر اپنے نفسوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے جھوٹ کو جانتا ہے اور اُس سے جھوٹ بولنا بالکل بے کار ہے۔آج بھی اگر کمزوروں سے میں دریافت کروں کہ کیوں تبلیغ کے لئے اپنی زندگیاں یا زندگیوں کا ایک حصہ وقف نہیں کرتے تو وہ بیسیوں عذر تراش لیں گے لیکن ان کے یہ عذر بالکل فضول ہو نگے کیونکہ ان کا معاملہ میرے ساتھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو دل کے بھیدوں کو جانتا ہے۔دیکھو! یہ رکوع جو میں نے سنایا ہے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا تھا لیکن اس کا ایک ایک لفظ یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج ہی نازل ہوا ہے۔اور ہماری جماعت کی موجودہ حالت کے متعلق ہے پس تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔یہ مت خیال کرو کہ تحریک جدید میری طرف سے ہے بلکہ اس کا ایک ایک لفظ میں قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں۔اور ایک ایک حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں دکھا سکتا ہوں مگر سوچنے والے دماغ اور ایمان لانے والے دل کی ضرورت ہے پس یہ