خطبات محمود (جلد 16) — Page 620
خطبات محمود ۶۲۰ سال ۱۹۳۵ء دین کے خاص موقع سے محروم رہ گئے ہیں تو اُس وقت وہ اپنا جوش اس قسم کے الفاظ سے نکالتے ہیں کہ اگر ہم ہوتے تو یوں کرتے۔اسی جذبہ کے ماتحت یہ صحابی جب دوسرے صحابہ کی جرات کا کوئی واقعہ سنتے تو کہا کرتے کہ تم نے کچھ بھی نہ کیا میں اگر ہوتا تو دکھاتا کہ کس طرح جنگ کیا کرتے ہیں۔احد کی جنگ میں یہ بھی شامل تھے چونکہ اس جنگ میں مسلمانوں کو پہلے ہی فتح ہوئی تھی وہ مطمئن ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے تھے اور کھجور میں کھا رہے تھے۔کھجور میں کھاتے ہوئے انہوں نے کیا دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک پتھر کے اوپر بیٹھے ہیں اور اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔انہوں نے پوچھا عمر! کیا ہوا روتے کیوں ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اُس وقت آخری کھجور کھانے لگے تھے اور منہ کی طرف لے جا رہے تھے کہ جو نہی انہوں نے یہ بات سنی کھجور اپنے ہاتھ سے پھینک دی اور کہا میرے اور جنت کے درمیان کیا صرف یہی ایک کھجور حائل نہیں ؟ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا مجھے آپ پر تعجب ہے رسول کریم ﷺ اگر شہید ہو گئے ہیں تو آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں جہاں وہ گئے ہم بھی وہیں جائیں گے۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔اور اتنی بہادری سے لڑے کہ جب وہ لڑتے لڑتے شہید ہوئے تو بعد میں ان کے جسم پر تلوار کے ستر زخم دیکھے گئے۔ھے غرض صحابہ جوش ایمان سے باوجود ظاہری کمزوری کے اور پاؤں اکھڑ جانے کے پھر اکٹھے ہو صلى الله گئے اور جب انہوں نے نعشوں کو ہٹایا تو دیکھا کہ رسول کریم ﷺ زندہ ہیں۔صحابہ نے آپ کو اٹھایا اور جب آپ کو ہوش آیا تو آپ تمام مسلمانوں کو ایک پہاڑ کی طرف لے گئے اُس وقت چونکہ تمام صحابہ زخموں سے چور تھے اور بہت کم ایسے تھے جو تندرست ہوں۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ خاموش رہو۔دشمن کو خواہ مخواہ برانگیختہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ابوسفیان جو کفار کا کمانڈرتھا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر بولا ، دیکھا ہم نے بدر کا بدلہ لیا یا نہیں۔پھر کہا دیکھو ہم نے تمہارے محمد ( ﷺ ) کو مار دیا۔بعض صحابہ اس پر بولنے لگے مگر رسول کریم ﷺ نے فرما یا چُپ رہو بولنے کی کیا ضرورت ہے۔جب مسلمانوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ کہنے لگا کیا تم میں ابوبکر زندہ ہے ؟ ( میں اس جگہ ضمناً یہ بات بتا دیتا ہوں کہ ابوسفیان کے ان سوالات سے على الله صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں کفار تک بھی یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم ہے