خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 619

خطبات محمود ۶۱۹ سال ۱۹۳۵ء قربانی کر سکتا ہے لیکن خدا سے محبت رکھنے والا قربانی نہیں کر سکتا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا عشق جن لوگوں کو ہوتا ہے وہ اسے دنیا کی ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔باپ کیا ، ماں کیا، عزیز واقارب اور رشتہ دار کیا ، سب کو اس کے مقابلہ میں بیج سمجھتے ہیں۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جسے اللہ اور اُس کے رسول سے اپنا باپ ، اپنے بیٹے ، اپنا قبیلہ ، اپنا مال ، اپنی تجارت اور اپنے مکانات زیادہ پسند ہیں اُسے کہہ دو کہ تمہارا کوئی ایمان نہیں۔ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت یہ کبھی برداشت نہیں کرتی کہ کوئی اُس کی محبت میں شریک بنے۔رسول کریم ﷺ کی غیرت کو دیکھو کہ آپ کا طریق ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے آپ کو اللہ تعالیٰ کے نام کے لئے جو غیرت تھی وہ اس واقعہ سے آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے۔احد کی جنگ جو ایک مشہور جنگ ہے اور ہر مسلمان جسے تاریخ اسلام سے ذرہ بھر بھی اُنس ہے اس کے حالات جانتا ہے۔اس جنگ میں ایک موقع پر ایسی حالت ہو گئی کہ صحابہ کے قدم اکھڑ گئے اور بہت تھوڑے صحابہ میدانِ جنگ میں رہ گئے۔بلکہ ایک وقت ایسا آیا جب کہ صرف چھ سات صحابہ رسول کریم کے گرد رہ گئے۔دشمن انہیں بھی ریلتے ہوئے پیچھے دھکیل کر لے گیا اور اُس نے پتھروں کی بوچھاڑ رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر کر دی۔رسول کریم ﷺ کو اس سے سخت تکلیف ہوئی آپ کے بعض دندانِ مبارک ٹوٹ گئے اور آپ تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر گئے۔اس کے بعد بعض صحابہ شہید ہو کر گرے اور اُن کے جسم رسول کریم لے کے جسم کے اوپر گر گئے۔اور باقی صحابہ نے خیال کیا کہ شاید رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پھر طاقت دی اور اُنہوں نے باوجود کمزوری کے اس ایمان اور اخلاص سے کام لے کر جو اُن میں ودیعت تھا پھر اکٹھا ہونا شروع کیا اور بہت سے صحابہ جمع ہو گئے۔صحابہ کا اخلاص اس حد تک پہنچا ہو ا تھا کہ ایک صحابی کے متعلق تو اریخ میں آتا ہے کہ وہ جنگ بدر میں شامل نہ ہو سکے تھے۔بعد میں جب کبھی وہ بدر کے واقعات سنتے تو انہیں بڑا درد پیدا ہوتا اور جوں جوں صحابہ کفار کی شکست کا ذکر کرتے انہیں اور زیادہ جوش آتا۔اور وہ کہتے میں اگر ہوتا تو آپ لوگ دیکھتے کہ کیا کرتا۔بظاہر یہ متکبرانہ دعویٰ ہے مگر کبھی عشق میں چور ہو کر اس قسم کے الفاظ انسان کے منہ سے نکل جاتے ہیں۔عام طور پر یہ فقرات منافقوں کے منہ سے نکلا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی نہایت جو شیلے مؤمن بھی جب سنتے ہیں کہ وہ کسی خدمت