خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 621

خطبات محمود ۶۲۱ سال ۱۹۳۵ء کے بعد حضرت ابو بکر ہی مسلمانوں میں اعلیٰ حیثیت رکھتے ہیں اور آپکی وفات کے بعد انہی کا وجود مسلمانوں کے لئے نقطۂ اجتماع ہو سکتا ہے ) رسول کریم ﷺ نے پھر صحابہ سے فرمایا خاموش رہو ب دینے کی ضرورت نہیں۔جب ابوسفیان کو اس بات کا بھی جواب نہ ملا تو کہنے لگا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔پھر اُس نے پوچھا کیا تم میں عمر زندہ ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دینے لگے تو رسول کریم ﷺ نے پھر فرمایا چُپ رہو۔جب اس بات کا بھی ابوسفیان کو کوئی جواب نہ ملا تو وہ کہنے لگا ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔پھر اُس نے تکبر سے نہایت بلند آواز سے نعرہ لگایا اور کہا اُعْلُ هُبُل - اُعْلُ هُبُل مہبل ان کا دیوتا تھا جس کی وہ پرستش کیا کرتے تھے مطلب یہ تھا کہ آج واحد خدا کے پرستار مبل کی پرستش کرنے والوں کے سامنے تباہ ہو گئے اور مہبل جیت گیا۔صحابہ اس پر خاموش رہے کیونکہ رسول کریم ﷺ انہیں بار بار یہ ہدایت دے چکے تھے کہ چپ رہو۔مگر جب ابوسفیان نے أغسلُ هُبُل کا نعرہ لگایا۔اور فخریہ کہا کہ ایک خدا کے مقابلہ میں ہبل جیت گیا تو رسول کریم ﷺ نے بڑے جوش سے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! کیا کہیں؟ آپ نے کہو اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ تم مُبل کو لئے پھرتے ہوئبل تو کوئی چیز نہیں اللہ ہی ہے جو عزت و جلال والا اور اسی کا نام دنیا میں بلند ہے۔تو دیکھو کتنے نازک مقام پر رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کا مظاہرہ فرمایا۔دشمن مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھ کر انہیں چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے ہم نے محمد علی کو مار دیا، ابوبکر اور عمر کو مار دیا۔مگر رسول کریم ﷺ صحابہ کی کمزور حالت کو دیکھ کر فرماتے ہیں خاموش رہو اور جواب مت دو۔مگر جو نہی خدا کا نام آتا ہے اور مہبل کی فتح جتائی جاتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے فرماتے ہیں خاموش کیوں ہو، بولو اللهُ عَزَّوَجَلَّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے مؤمن کو جو محبت ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ماں باپ، بیٹے ، بھائی ، بہنیں ، عزیز واقارب اور رشتہ دار سب اس کے مقابلہ میں بیچ ہوتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے جو دیر کے بعد اسلام میں داخل ہوئے تھے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے مختلف باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ باتوں باتوں میں حضرت ابوبکر سے کہنے لگے ابا جان ! فلاں جنگ کے موقع پر میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہو ا تھا۔آپ میرے سامنے سے دو دفعہ گزرے۔میں اگر اُس وقت چاہتا تو آپ کو مار دیتا مگر