خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 562

خطبات محمود ۵۶۲ سال ۱۹۳۵ء اور بات پرانی ہو چکی ہے اس لئے اس کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔نیز بعض افسروں کے رویہ نے بھی اس کے اظہار پر مجبور کر دیا ہے۔شروع دن سے میری یہی رائے ہے کہ حکومت نے اس بارہ میں بہت سی غلطیاں کی ہیں اگر تو یہ مسجد پہلے سے ہی گر چکی ہوتی تو اور بات تھی سکھوں کے زمانہ میں ہی اگر یہ گرائی جاچکی ہوتی اور اس پر کوئی اور عمارت تعمیر ہو چکی ہوتی تو ایسے حالات میں شریعت نے یہی حکم دیا ہے کہ سوئے ہوئے فتنہ کو بیدار نہ کر و۔مگر یہ مسجد قائم تھی اور ایسی صورت میں قائم تھی کہ سکھ اپنے عہد حکومت میں بھی اسے نہ گر اسکے تھے۔یہ سب باتیں اخبارات میں بالوضاحت آ چکی ہیں اور میں ان تفاصیل میں پڑنا غیر ضروری سمجھتا ہوں۔میرا یہ پختہ خیال ہے کہ یہ مسجد تھی اور ایسی مسجد جسے سکھ اپنی حکومت کے زمانہ میں بھی نہ گر ا سکے تھے اور اس کی وجہ خواہ یہی ہو کہ سکھ اس بات کو اپنے لئے زیادہ قابل فخر سمجھتے ہوں کہ مسجد اپنی اصلی صورت میں ان کے قبضہ میں رہے یا کوئی اور ہو۔بہر حال یہ حقیقت ہے کہ مسجد اپنی اصلی شکل میں قائم تھی اور اگر گرائی نہیں گئی۔اور اب اس کے گرائے جانے پر حکومت کا یہ توقع رکھنا کہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا نہ ہو ، ایک ایسی توقع ہے جس کی مثال بہت کم مل سکتی ہے۔اور ایسی ہی بات ہے جیسے حافظ مرحوم نے کہا ہے کہ بع درمیان قعر دریا تخته بندم کرده باز میگوئی که دامن تر مکن ہشیار باش یہ ایسی ہی امید تھی جیسے کسی کو دریا میں قید کر کے یہ امید رکھی جائے کہ اُس کا دامن تر نہ ہو۔وہ مسجد جو مسجد ہی کی صورت میں سینکڑوں سال سے قائم تھی اور ایسے شہر میں تھی جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایسے صوبہ میں تھی جہاں کی اکثر آبادی مسلمان ہے، ایسے محلہ میں تھی جہاں مسلمانوں کی آمد و رفت بکثرت تھی اسے مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے گرانا اور پھر امید رکھنا کہ ان کے دل میں درد پیدا نہ ہو فطرت انسانی کے خلاف توقع ہے۔فرض کرو سارے صوبہ میں ایک ہی مسلمان ہوتا تو اُسے بلا کر کہا جا سکتا تھا کہ تمہیں دُکھ تو ضرور ہو گا مگر صبر کر لو لیکن جب مسلمان پنجاب میں کروڑ سے زیادہ ہیں ان میں تعلیم یافتہ بھی ہیں اور غیر تعلیم یافتہ بھی ، بے غیرت بھی ہیں اور غیرت مند بھی ٹھنڈی طبیعت والے بھی ہیں اور جوش والے بھی ، صدمہ کو برداشت کر لینے والے بھی ہیں اور اس امر کی طاقت نہ رکھنے والے بھی۔تو پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ایک اشتعال انگیز فعل کئے جانے کی