خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 561

خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۵ء صاحب کا اخبار ہمیشہ میرا نام بگاڑ کر لکھتا ہے مگر کوئی دکھائے کہ میں نے بھی اس رنگ میں ان کا نام لیا ہو۔ابھی میں نے احراری مولویوں کے نام لئے ہیں مگر سب کے پہلے القاب اور بعد میں صاحب کا لفظ استعمال کیا ہے۔پس اس قسم کی کمینہ بات ہماری طرف منسوب کرنا بتا تا ہے کہ بعض افسروں کے دلوں میں ہمارے متعلق انتہاء درجہ کا بغض ہے۔اس سے پہلے ایک اور وجہ شبہ کی بھی پیدا ہوئی تھی ایک ذمہ دار افسر نے جن کا نام میں نہیں لیتا لیکن وہ جب یہ خطبہ پڑھیں گے تو سمجھ جائینگے اور ان پر میں خفا بھی نہیں کیونکہ ہر شخص کو اپنے عہدے کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے ، ایک معزز احمدی سے کہا کہ اگر تم لوگ شہید گنج کے مسئلہ میں کوئی دلچسپی رکھتے ہو تو میں ایسے آدمی تمہیں بتا سکتا ہوں جو تمہارے حسب منشاء کام کر سکتے ہیں گویا وہ اس طرح معلوم کرنا چاہتے تھے کہ جماعت احمدیہ کا اس معاملہ میں کہاں تک دخل ہے اور آیا ایجی ٹیشن کرنے والوں سے احمدیوں کا تعلق ہے یا نہیں۔وہ افسر صاحب ہمیشہ ہمارے ساتھ دوستی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں اور ہم بھی انہیں دوست ہی سمجھتے ہیں مگر واقعات کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔آخر ہم ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ان دوستوں کو کیسا دوست سمجھیں۔وہ بے شک کہتے ہیں ہم تو تمہارے دوست ہیں مگر ہم کہتے ہیں دوست کی کوئی علامت بھی تو ہونی چاہئے۔ڈیڑھ سال سے ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ دوستی کی علامت ہے؟ اس دوستی کے متعلق تو ہم وہی کہہ سکتے ہیں جو فارسی کی ایک مثل میں کہا گیا ہے یعنی بد مرساں مرا بخیر تو امید نیست یعنی اے دوست ! تمہاری نیکیوں اور بھلائیوں سے میں باز آیا۔مہربانی کیجئے اور اتنا دکھ تو نہ دیجئے۔یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے سے چھوٹے افسر شرارت کر کے جھوٹ بول رہے ہوں مگر دوست سے ہمیں یہ امید رکھنی چاہئے کہ اگر خدا نے اسے بڑا درجہ دیا ہے تو وہ معاملہ کی تحقیق کر کے اصل معاملہ معلوم کرے۔پس دوستی کی کوئی علامت ہونی چاہئے یہ بھی کوئی دوستی ہے کہ جو نہی کوئی جھوٹی بات بھی کان میں پڑے جھٹ اُسے ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کر دیا جائے۔خیر اب جب میں واقعات پر روشنی ڈالنے پر مجبور ہو گیا ہوں، میں اس کے متعلق بعض باتیں بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔پہلا سوال یہ ہے کہ اس قضیہ کے متعلق ہماری رائے کیا ہے جسے میں نے اب تک اس لئے ظاہر نہیں کیا کہ مصیبت کے وقت گورنمنٹ کو اور مشکلات میں کیوں ڈالوں۔مگر اب وقت زیادہ گزر چکا