خطبات محمود (جلد 16) — Page 563
خطبات محمود ۵۶۳ سال ۱۹۳۵ء اجازت دے کر ایک ایسی جگہ میں جس پر ان کی نظریں ہر وقت پڑسکتی تھیں اور جس کی خبریں انہیں ہر وقت ملتی تھیں پھر امید یہ رکھنا کہ مسلمان صبر سے کام لیں بتا تا ہے کہ حکومت کے موجودہ افسروں نے فطرت انسانی کا پوری طرح مطالعہ نہیں کیا۔وہ قانون کو فطرت پر حاکم سمجھتے ہیں حالانکہ فطرت قانون پر حاکم ہے۔حکومت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ امن کا قیام چاہتی تھی اور میں اسے صحیح تسلیم کرتا ہوں مگر سوال یہ ہے کہ امن انسانی فطرت کے ساتھ کھیلنے سے قائم ہوتا ہے یا اس کا احترام کرنے سے؟ ہم سمجھتے ہیں پنجاب گورنمنٹ میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو امن کا قیام چاہتے تھے۔دو تو ان میں مسلمان ہی ہیں ان کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ چاہتے ہوں کہ آؤ اپنی قوم کے جذبات سے کھیلیں۔اسی طرح انگریز افسروں کو کوئی جنون تو نہیں تھا کہ وہ خواہ مخواہ فساد کرا کر شغل دیکھنا چاہتے تھے اس لئے میں ان لوگوں سے متفق نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر فساد ڈلوانے کے لئے کی گئی ہے مگر میں اس کا انکار نہیں کر سکتا کہ یہ غلطی تھی اور بہت بڑی غلطی۔کئی غلطیاں بعض اوقات خطرناک نتائج پیدا کرتی ہیں اور یہ غلطی بھی ایسی ہی تھی۔مسلمانوں کے جذبات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا اور خیال کر لیا گیا کہ سکھ اپنی ایک مقبوضہ عمارت گرا ر ہے ہیں اس میں حکومت خواہ مخواہ کیوں دخل دے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ صبر سے کام لیں اس سے آگے ذمہ دار افسروں کا دماغ نہیں گیا۔پھر اس بارہ میں سخت غلطی کی گئی ہے کہ اسے سکھوں کی جائداد سمجھ لیا گیا۔اگر تو اس مسجد کو سکھوں کے زمانہ میں ہی گراکر گوردوارہ یا سرائے یا کسی اور عمارت میں تبدیل کر دیا جاتا تو یہ کسی کی جائداد ہوسکتی تھی ورنہ مسجد کسی کی جائداد نہیں ہوسکتی۔اس جگہ میں یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ مساجد کے بارہ میں عام مسلمانوں سے ہمارے بعض عقائد مختلف بھی ہیں اور اس اختلاف کے اظہار سے میں آج بھی نہیں ڈرتا۔میرا عقیدہ ہے کہ غیر آباد مسجد کو دوسری جگہ تبدیل کیا جا سکتا ہے مثلاً پہلے ایک محلہ مسلمانوں کا تھا اور وہاں مسجد تھی مگر رفتہ رفتہ ہندوؤں نے اُس محلہ کے تمام مکانات خرید لئے اور اب وہاں مسلمان نہیں رہتے مسجد غیر آباد پڑی ہے اور اس میں جانور اور پرندے وغیرہ نجاست کرتے رہتے ہیں تو اُسے بیچ کر اس سے دوسری مسجد بنا لینا جائز ہے۔دوسرے میرا عقیدہ ہے کہ حکومت وقت کسی رفاہِ عام کی ضرورت کے ماتحت مسجد کے کسی حصہ کا