خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 38

خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۵ء پوچھا کہ تم یہ سمجھ لو کہ ہم نے جس امداد کا وعدہ کیا ہے ممکن ہے اتنا بھی نہ دے سکیں۔تو اس نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ دے رہے ہیں یہ تو احسان ہے اللہ تعالیٰ کی قسم آپ اس وقت کہیں کہ چین چلے جاؤ تو میں ٹوکری ہاتھ میں لے کر مزدوری کرتا ہؤا روا نہ ہو جاؤں گا۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ لڑکوں کی ذات میں اخلاص ہے مگر یہ اخلاص استاد تو پیدا نہیں کرتے یہ ماحول کا نتیجہ ہے ورنہ جو کام استادوں کا ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا وہ ہیرے ہیں مگر بے کاٹے ہوئے۔ہم نے مدرسہ اور جامعہ میں انہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تا وہ ہیرے ہمیں کاٹ کر بھیجے جائیں مگر وہ پھر بے کٹے ہمارے پاس آگئے۔یہ ایک اتنی بڑی کوتا ہی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں طالب علم ہیں جن کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں اور انہیں ملونٹے اور مسجد کے کنگال مولوی بنا دیا گیا ہے۔نہ ان کے دماغوں میں کوئی تعمیری پروگرام ہے نہ ان کی آنکھوں میں عشق ہے اور نہ ان کے سینوں میں سلگتی ہوئی آگ ہے اگر آگ ہے تو دبی ہوئی مگر دبی ہوئی آگ کیا فائدہ دے سکتی ہے۔بندا ایمان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ وہی ایمان فائدہ دے سکتا ہے جو گھلا ہو اور ایمان جب گھلتا ہے تو انسان کو وسعت خیال حاصل ہو جاتی ہے۔روز نئی نئی سکیمیں اسے سوجھتی ہیں ، نئے سے نئے ارادے اور نئی سے نئی امنگیں اس کے دل میں موجزن ہوتی ہیں اور اگر امنگ پیدا ہو تو پھر وہ چُھپ نہیں سکتی بلکہ ظاہر ہو کر رہتی ہے۔بند ہنڈیا میں بھی اگر دھو آں جمع ہو جائے تو وہ دھوئیں کی وجہ سے اچھلنے لگ جاتی ہے۔پس ایک ہنڈیا دھوئیں سے اچھل سکتی ہے تو کیا مؤمن کے اندرا گر وسعت خیال اور اُمنگیں داخل ہو جائیں تو وہ نہیں اچھلے گا۔ریل ایجاد ہوئی تو محض اسی بات سے کہ ایجاد کرنے والے نے ایک دن دیکھا کہ بند ہنڈیا دھوئیں سے اُچھل رہی ہے۔اس کے ذہن میں معابات آئی اور اس نے ایک انجن بنایا جس میں دُھو آں بھر دیا اور وہ چلنے لگ گیا۔تو بخارات بھی اگر بند ہوں تو ہنڈیا کو اچھال سکتے ہیں تو جس کے دل میں ایمان اور محبت کا دھواں اُٹھ رہا ہو وہ کس طرح کم حوصلہ ہو سکتے ہیں۔مگر میں نے جامعہ کے طالب علموں کو ایسا دیکھا کہ گویا وہ بڑے بڑے پتھروں کے نیچے دبے پڑے ہیں حالانکہ انہیں غباروں کی طرح اُڑنا چاہئے تھا اور بجائے اس کے کہ ہم کہتے جاؤ اور خدا کے دین کی تبلیغ کرو، وہ خود دیوانہ وار تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوتے مگر ان غریبوں نے جو ایمان پیدا کیا، مدرسوں اور پروفیسروں نے اسے صیقل کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں کیا اور میں یہ سمجھتا ہوں یہ سینکڑوں خون ہیں جو ان کی گردنوں پر رکھے جائیں گے۔جس