خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۵ء طرح ایک دیوار کے سامنے جب آدمی کھڑا ہو جائے تو اسے آگے جانے کا راستہ نہیں ملتا اسی طرح میں نے ان کے دماغ میں گرید گرید کر جانا چاہا مگر مجھے معلوم ہوا کہ ان کا دماغ محض ایک دیوار ہے، سر ٹکرا کر مر جاؤ مگر آگے راستہ نہیں ملے گا۔غضب یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں تک انہوں نے نہیں پڑھیں۔جس سے بھی سوال کیا گیا کورس کی کتابوں کے سوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں سے دو ایک کے علاوہ وہ کسی کا نام نہ لے سکا۔اگر انہیں اپنے ایمانوں کی مضبوطی کا خیال ہوتا تو کیا ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا مطالعہ نہ کرتے۔مجھے تو یاد ہے جب میں سکول میں پڑھا کرتا تھا ہمیشہ مجھے کوئی نہ کوئی بیماری رہتی تھی اور مدرسہ سے بھی اکثر ناغے ہوتے مگر اس عمر میں ہی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھی ہیں۔بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بستہ میں کوئی نئی کتاب رکھنی ، تو وہیں سے کھسکا کر لے جانی اور شروع سے آخر تک اسے پڑھنا۔بلکہ موجودہ عمر میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کم کتابیں پڑھی ہیں کیونکہ اب میرے علم کے استعمال کرنے کا وقت ہے۔مگر چھوٹی عمر میں جب مدرسہ کی پڑھائی سے بوجہ بیماری فراغت ہوتی اور اور کام نہ ہوتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتا ہیں میں بہت پڑھا کرتا تھا اور در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہی علم کا سمندر ہیں۔اس وقت جب کہ اکثر لوگ خود ہی مسیح کو وفات یافتہ کہہ رہے ہیں ان بحثوں میں کیا رکھا ہے کہ وفات مسیح کے یہ دلائل ہیں اور فلا نے علامہ نے یہ لکھا اور فلاں امام نے یہ لکھا۔کن چیزوں پر حصر کرنے کا نام علم رکھ لیا گیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ بالکل بے کار چیزیں ہیں یہ بھی مفید چیزیں ہیں مگر ان کی مزید تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں۔ان کے لئے کافی ذخیرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں آچکا ہے۔اب ان سوالات سے ایسا ہی تعلق ہونا چاہئے تھا جیسا سیر فی الکتب کرتے ہوئے کوئی نئی بات آ گئی تو اسے معمولی طور پر نوٹ کر لیا مگر اس پر اپنے دماغوں کو لگانے اور اپنی محنت کو ضائع کرنے کے کیا معنی ہیں۔تمہیں اس سے کیا تعلق کہ فلاں امام نے کیا لکھا۔تمہیں تو اپنے اندر ایک آگ پیدا کرنا چاہئے ایمان پیدا کرنا چاہئے ، اخلاق پیدا کرنے چاہئیں ، امنگیں پیدا کرنی چاہئیں اور تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہیں خدا نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور تم زمین میں اس کے خلیفہ ہو۔پھر تم اخبار میں پڑھتے اور جہاں جہاں مسلمانوں کو تکالیف و مصائب میں گرفتار پاتے ،تمہارے دلوں میں ٹیسیں