خطبات محمود (جلد 16) — Page 30
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ دنیا میں روپیہ کے ذریعہ بھی تبلیغ نہیں ہوئی اور جو قوم یہ بجھتی ہے کہ روپیہ کے ذریعہ وہ اکناف عالم تک اپنی تبلیغ کو پہنچا دے گی اس سے زیادہ فریب خوردہ، اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ دیوانی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں۔روپیہ کے ذریعہ ہونے والا کام صرف ایک ظاہری چیز ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں تم روپیہ کو قلابہ تو سمجھ سکتے ہو جو دو چیزوں کو آپس میں ملا دیتا ہے مگر وہ عارضی چیز ہے۔جس کے اندر کوئی پائیداری نہیں۔تم کیلوں سے مکان نہیں بنا سکتے بلکہ کیلوں کا اتنا ہی کام ہے کہ وہ دروازوں اور کھڑکیوں کو جوڑ دیں۔جس چیز کے ساتھ مذہبی جماعتیں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں وہ ذات کی قربانی ہوتی ہے نہ کہ روپیہ کی۔روپیہ کے ذریعہ سے مذہبی جماعتوں نے دنیا میں کبھی ترقی نہیں کی کیونکہ مذہب دلوں کو جیتا ہے اور روپیہ کسی کے دل کو فتح نہیں کر سکتا۔روپیہ سے فتح کئے ہوئے لوگ زیادہ سے زیادہ غلام کہلائیں گے مگر مذہب تو وہ چیز ہے جو غلامی سے لوگوں کو نجات دلاتا ہے۔اگر تم روپیہ سے دنیا کو فتح کرتے ہو تو تم لوگوں کو غلام بناتے ہو کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے دنیا کو خرید لیا مگر کیا غلام بھی دنیا میں کوئی کام کیا کرتا ہے۔اس صورت میں تم دنیا کو ترقی کی طرف نہیں لاتے بلکہ اسے اور بھی زیادہ ذلیل اور تباہ کرتے ہو۔کیا تم سمجھتے ہو کہ بچے جس طرح اپنے ماں باپ کی خدمت کرتے ہیں ، غلام اس سے بڑھ کر خدمت کیا کرتے ہیں۔یا غلام اور بچہ کی ایک ہی قیمت ہوتی ہے اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور کیوں بچہ قیمتی ہوتا ہے مگر غلام قیمتی نہیں ہوتا۔اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ تم نے غلام کو روپیہ سے خریدا ہوا ہوتا ہے مگر بچہ کو ماں نے اپنی جان دے کر خریدا ہوتا ہے۔بچہ کی قیمت کیا ہے؟ بچہ کی قیمت ماں کا نو مہینے اپنی زندگی کا اس کے لئے وقف کر دینا ہے۔پھر بچہ کی قیمت زچگی کے وقت ماں کا اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دینا ہے۔زچگی کیا ہے۔ایک موت ہے جس کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے۔جس دن بچہ کی پیدائش ہوتی ہے اس دن گھر میں دو پیدائشیں ہوتی ہیں ، ایک ماں کی پیدائش ہوتی ہے اور ایک بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔پس ماں نو مہینے کے لئے اپنی زندگی بچہ کے لئے وقف کرتی ہے پھر اپنی جان کو قربانی کے بھینٹ چڑھاتی ہے جس میں کبھی تو وہ جان دے دیتی ہے اور کبھی بیچ کر آ جاتی ہے۔در حقیقت زچگی کے وقت عورت کے جسم پر جو اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور جس قدر شدائد و مشکلات میں سے وہ گذرتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عورت اللہ تعالیٰ کے فضل کے طور پر دوبارہ زندہ کر دی جاتی ہے ورنہ وہ حالت