خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 31

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء زندگی کی نہیں ہوتی اس لئے با وجو د سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ہر سال ایک بڑی تعداد عورتوں کی ہلاک ہو جاتی ہے۔کبھی ماں مر جاتی ہے اور بچہ زندہ رہتا ہے کبھی بچہ مرجاتا ہے اور ماں زندہ رہ جاتی ہے اور کبھی ماں اور بچہ دونوں مرجاتے ہیں اور اس طریق پیدائش میں ہزار ہا قربانیاں عورتوں کی طرف سے ہر سال کی جاتی ہیں۔پھر بچہ بھی ایک طرح کا غلام ہی ہوتا ہے بلکہ جتنی غلامی وہ کرے اتنا ہی شریف اور نیک سمجھا جاتا ہے مگر اس میں کوئی عیب یا ذلت کی بات نہیں کیونکہ وہ جان دے کر خریدا گیا ہے۔پس در حقیقت وہی انسان دنیا میں مفید کام کر سکتے ہیں جو تمہاری روحانی اولاد ہوں اور جنہیں تم نے اپنی جانیں دے کر خریدا ہوا ہو۔جن کے غم میں تم گھلے جا رہے ہو اور جن کی ہدایت کے لئے تم خدا تعالیٰ کے دروازے کے آگے گویا روحانی رنگ میں مر چکے ہو تب اس کے نتیجہ میں تمہیں جو فرزند ملیں گے وہ تمہارے روحانی فرزند ہوں گے۔مگر جن کو مبلغوں کے ذریعہ روپیہ دے کر تم خریدو گے وہ غلام ہوں گے اور غلام کے ذریعہ تم کسی کام کی توقع نہیں کر سکتے۔یورپ کے مشنریوں نے روپیہ کے ذریعہ کتنی تبلیغ کی مگر ایک جگہ بھی وہ آزاد نہیں بلکہ وہ بھی غلام بنے ان کے ملک بھی غلام بنے ، ان کے بچے بھی غلام بنے اور ان کی بیویاں بھی غلام بنیں۔افریقہ کا بیشتر حصہ عیسائی ہے مگر کیا وہ آزاد ہیں۔وہ اخلاقی طور پر بھی غلام ہیں وہ روحانی طور پر بھی غلام ہیں اور وہ جسمانی طور پر بھی غلام ہیں اور جب بھی ان قوموں کی آزادی کا سوال پیدا ہوتا ہے ، یورپین ممالک ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم نے بہت سا رو پید ان کی بہتری کے لئے صرف کیا ہے اس لئے ہم ان ملکوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔غرض روپیہ سے خریدی ہوئی چیز بجز غلامی میں اضافہ کرنے کے اور کسی کام نہیں آ سکتی مگر خدا اور اس کے قائم کردہ رسول لوگوں کو آزاد کرنے کے لئے آتے ہیں انہیں غلام بنانے کے لئے نہیں آتے۔پس اگر تم دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو روپیہ کے ساتھ نہیں بلکہ لوگوں کو اپنی جان کے ساتھ خرید کر لاؤ جس کو روپیہ کے ساتھ خرید کر لاؤ گے وہ خود بھی ذلیل ہوگا اور تم بھی ذلیل ہو گے۔مگر جس کو جان دے کر خریدو گے وہ تم پر جان دے گا اور تم اس پر قربان ہو گے۔پس یہ غلط ہے کہ تم روپیہ یا مبلغین کے ذریعہ کام کر سکتے ہو تم اگر دنیا میں فتح یاب ہونا چاہتے ہو تو جان دے کر ہو گے اور جان دینے کے معاملہ میں ہرگز کوئی قوم نہیں کہہ سکتی کہ چونکہ فلاں شخص نے جان دے دی ہے ، اس لئے اسکا فرض ادا ہو گیا۔جب تک تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش نہیں کرتا ، جب تک تم