خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 334

خطبات محمود ۳۳۴ سال ۱۹۳۵ء پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوتا ہے کہ طاعون آئے گی 1 اور اس کے متعلق چند مرتبہ الہام ہو کر خاموشی ہو جاتی ہے اس کے بعد الہامات کے مطابق طاعون آتی اور اس کا لمبا سلسلہ چلتا ہے پھر طاعون دنیا کے اکثر حصہ سے معدوم ہو جاتی ہے ایک خاص وبا کے متعلق الہام ہوتا ہے اور ایک دفعہ سے زیادہ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاتا اس کے مطابق انفلوئنزا آتا اور ایک سال کے اندر اندر ساری دنیا پر چھا جاتا ہے مگر پھر غائب ہو جاتا ہے لیکن زلزلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دیتا ہے اور متواتر الہام ہوتے ہیں یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو جاتی ہے ابتدائی کئی سالوں میں زلزلہ کے متعلق الہامات ہوتے ہیں۔۱۹۰۵ء میں زلزلہ کے متعلق الہام ہوتے ہیں پھر ۱۹۰۶ ء میں زلزلہ کے متعلق الہام ہوتے ہیں، ۱۹۰۷ء میں زلزلہ کے متعلق الہام ہوتے ہیں اور زلازل کے متعلق آپ کے الہامات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو جاتی ہے اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ زلازل کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ متعدد آئیں گے، مختلف ممالک میں آئیں گے۔خود الہامات کی مختلف نوعیت عذاب کی مختلف نوعیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔طاعون کے متعلق الہام ہوتے ہیں تو چند دفعہ کے الہام کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ، انفلوئنزا کے متعلق الہام ہوتا ہے تو ایک دفعہ کے الہام کے بعد اس کے متعلق کوئی اور الہام نہیں ہوتا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ طاعون آئے گی اور چلی جائے گی ، انفلوئنزا آئے گا اور غائب ہو جائے گا لیکن زلازل کے متعلق آپ کو متواتر الہامات ہوتے رہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لمبا سلسلہ ہے اور مختلف علاقوں اور مختلف وقتوں سے مخصوص ہے زلزلے آئیں گے اور متواتر آئیں گے اور دنیا کے ہر حصہ میں آئیں گے مگر نادان کہتے ہیں احمدی لوگوں کے مصائب پر خوش ہوتے ہیں مگر یہ اعتراض کرنے والے انہی لوگوں کی ذریت میں سے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ بدر کی جنگ میں کفار کے قتل ہونے پر رسول کریم ﷺہ خوش ہوئے۔یہ انہی لوگوں کی ذریت میں سے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اس قحط پر خوش ہوئے جو اُن کی بریت کے نشان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے پھیلایا۔یہ انہی لوگوں کی ذریت میں سے ہیں جو اعتراض کیا کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی غرقابی پر خوش ہوئے۔یہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جو لوگ مظہر ہوتے ہیں وہ انذاری نشانات کے پورے ہونے پر ایک ہی