خطبات محمود (جلد 16) — Page 333
خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۵ء کی نوے فیصد آبادی مرسکتی ہے کیا وہاں کی باقی ۱۰ فیصدی آبادی کو خدا تعالیٰ ہلاک نہیں کر سکتا ؟ اور جو خدا پچاس ساٹھ میل کے علاقہ میں قیامت بپا کر سکتا ہے کیا وہ ساری دنیا میں قیامت بپا نہیں کر سکتا ؟ جس خدا نے کو ئٹہ میں قیامت بپا کر دی یقیناً وہی خدا ساری دنیا میں قیامت بپا کر کے اسے نابود کر سکتا ہے مگر افسوس کہ لوگ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے اور وہ اس قدر کھلے نشانات دیکھ کر پھر بھی خدا تعالیٰ کے اس مأمور کی طرف توجہ نہیں کرتے جسے اس نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا اور جس کی صداقت میں زبردست انذاری نشانات دکھا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ زلزلہ کا نشان خدا تعالیٰ پانچ دفعہ دکھائے گا۔اور چونکہ یہ الہام زلزلہ کانگڑہ کے بعد ہوا اس لئے یہ یقینی بات ہے کہ ابھی تین اور ہیبت ناک زلزلے آنے والے ہیں پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ پانچ زلزلے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد آئیں گے۔سے اگر کانگڑہ کے زلزلہ کو شامل کر لیا جائے تب بھی دو زلزلے باقی رہتے ہیں ہر دفعہ کا زلزلہ پہلے کی نسبت زیادہ نقصان دہ اور دہشتناک ہوتا ہے۔کانگڑہ کا زلزلہ آیا تو لوگوں نے خیال کیا کہ اس سے زیادہ خطرناک زلزلہ اور کیا ہو سکتا ہے ، جاپان سے بڑے بڑے ماہرین آئے اور انہوں نے کہا کہ اب سو سال تک ہندوستان میں کوئی زلزلہ نہیں آسکتا لیکن ان کے اس فیصلہ پر ابھی تہیں سال بھی نہ گزرے تھے کہ بہار میں کانگڑہ سے بڑھ کر خطر ناک زلزلہ آیا اور ایک سال ہی گزرا تھا کہ اب کوئٹہ کی تباہی ہوگئی۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس کے بعد پنجاب ، یو۔پی ، مدراس اور بمبئی کے علاقوں میں سے کس حصہ میں باقی تین زلز لے آنے والے ہیں۔دنیا کا پیدا کرنے والا خدا اپنے مسیح موعود کے ذریعہ کہتا ہے کہ میں پانچ دفعہ اپنے نشانات کی چمک دکھلاؤں گا وہ کہتا ہے :۔چمک دکھلاؤں گاتم کو اس نشاں کی پنج بار گویا یہ زلزلے کے نشانات چمک کی طرح ہوں گے جس طرح بجلی کوندتی اور ایک سیکنڈ میں ادھر سے اُدھر چلی جاتی ہے اس طرح یہ زلزلے بھی زیادہ دیر نہیں رہیں گے ایک دومنٹ میں ہی لوگوں کا کام تمام کر دیں گے پھر یہ زلزلے کچھ کچھ وقفہ کے بعد آ ئیں گے اور مختلف جگہوں میں آئیں گے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دنیا کو مخاطب کر کے فرما یا کسی جگہ کے لوگ بھی ان آفات سے مامون نہیں۔ھے