خطبات محمود (جلد 16) — Page 335
خطبات محمود ۳۳۵ سال ۱۹۳۵ء وقت خوش بھی ہوتے ہیں اور رنجیدہ بھی۔آر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام خدا تعالیٰ کو ربّ العلمین قرار دیتا ہے مگر جب وہ کسی شخص کی جان نکالتا ہے تو وہ اس کی ربوبیت کہاں کر رہا ہوتا ہے۔پس اعتراض تو خدا تعالیٰ پر بھی کیا جاتا ہے کہ جب وہ کسی کو مارتا ہے تو اُس وقت اس کے لئے ربّ کہاں رہتا ہے مگر نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی مثال دنیا داروں کی طرح نہیں خدا ایک ہی وقت میں منیت بھی ہوتا ہے اور مجی بھی ، مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے۔کون سی موت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی آتی ہے جس کے ساتھ حیات نہیں ہوتی۔ہر موت اپنے ساتھ حیات لاتی ہے۔کھانے پینے کی چیزیں مرتی ہیں اور یہ بے شک ان کے لئے ایک موت ہوتی ہے لیکن وہ مر کر کھا د جیسی قیمتی چیز پیدا کر دیتی ہیں۔تم روٹی سے ایک روٹی کا کام لے سکتے ہو مگر روٹی کے فضلہ سے دس روٹیاں پیدا کی جاتی ہیں۔پس کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں جس پر موت آئے مگر وہ حیات پیدا نہ کرے۔نابینا انسان دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ خدا ما ر رہا ہے مگر آنکھوں والا جب دیکھتا ہے تو کہتا ہے خدا زندہ کر رہا ہے اور در حقیقت یہ آنکھ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین اور ان کی جماعتوں کو ہی ملتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے صرف موت کبھی نہیں آتی بلکہ اس کی طرف سے آنے والی ہر موت زندگی کا پیغام اپنے ساتھ لاتی ہے۔جنگ بدر میں بے شک مسلمانوں کے بھی کچھ آدمی مارے گئے مگر کیا بدر کی جنگ ہی نہیں تھی جس نے عرب کو زندہ کر دیا، اسی طرح جنگ احد میں کچھ مسلمان مارے گئے اور کچھ جنگ احزاب میں کام آئے مگر انہی جنگوں کے نتیجہ میں جب اہلِ عرب میں اصلاح پیدا ہو گئی تو ان میں ہر ایک شخص کو زندگی کی روح نظر آنے لگی۔پھر فتح مکہ کے وقت بھی بعض موتیں ہوئیں لیکن اگر مکہ فتح نہ ہوتا تو عرب کے لاکھوں لوگوں کی زندگی کس طرح ممکن تھی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان موتوں میں عرب کی زندگی تھی گویا موت میں ان کی زندگی مخفی تھی پس موت بسا اوقات حیات کا موجب ہو جاتی ہے اور یہ موتیں بھی جو کوئٹہ اور اس کے گردو نواح میں ہوئیں حیات کا موجب ہوسکتی ہیں اگر لوگ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اپنی عملی زندگی میں تغیر پیدا کریں۔غرض اگر اس عذاب کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں گے اور اس کے مامور کی آواز پر کان دھریں گے تو یہ ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں لیکن اگر اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے کہ لوگ ہلاک ہوئے اور دفعہ