خطبات محمود (جلد 16) — Page 232
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء استعمال کرو بلکہ عربی کے جو الفاظ انہوں نے لے لئے ہیں انہیں بھی ترک کر دو۔ان لفظوں کے بغیر جب محمد ﷺ کے زمانہ میں کام چلتا تھا تو اب کیوں نہیں چل سکتا۔ایسی نقل تو وہی شخص ضروری سمجھے گا جس کے دل میں کبر ہومگر اللہ تعالیٰ کو کبر پسند نہیں۔وہ نہیں چاہتا کہ تم نقل کر کے یہ بتاؤ کہ تم بھی کچھ شان رکھتے ہو بلکہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ شان کوئی نہیں تم سب ہمارے غلام ہو پس بجائے شان دکھانے کے اللہ تعالیٰ کے غلام بن جاؤ پھر کوئی شخص تم پر حرف گیری نہیں کر سکتا۔اس موقع پر میں حکومت کو بھی نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جو کچھ کہتی ہے اس پر عمل کرے۔جب یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ کہا کرتی ہے معمولی جھگڑوں کو آپس میں طے کر لینا چاہئے اور جو تنازعات قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہوں ان میں خود بخود فیصلہ کیا جا سکتا ہے عدالتوں میں جانے کی ضرورت نہیں تو پھر یہ انصاف کے بالکل خلاف ہے کہ ان جھگڑوں کے تصفیہ کرنے کا نام پیرائل گورنمنٹ رکھا جائے اگر ایسا کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گورنمنٹ منہ سے کچھ اور کہتی ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔منہ سے تو وہ یہ کہتی ہے کہ ہمارا معمولی جھگڑوں سے کیا واسطہ، جو جھگڑے قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہوں ان کا فیصلہ بیشک لوگ خود کریں مگر دل میں اس کے یہ ہوتا ہے کہ لوگ معمولی جھگڑوں کا بھی آپس میں فیصلہ نہ کریں کیونکہ یہ پیر ائل گورنمنٹ کا قیام ہے۔گورنر کے بعد گورنر ، آفیسر ز کے بعد آفیسر ز ہندوستان میں آئے اور زور دے کر کہتے ہیں کہ ہندوستانی لوگ مقدمہ باز ہیں یہ آپس میں کیوں جھگڑوں کا فیصلہ نہیں کرتے لیکن جب اس کے مطابق ایک جماعت کھڑی ہوتی اور وہ کہتی ہے انگریز سچے ہیں انہوں نے جو کچھ کہا دل سے کہا اور خیر خواہی کو مد نظر رکھ کر کہا ہم ان کے فرمان کے مطابق معمولی جھگڑے خود بخود طے کر لیا کریں گے تو جھٹ جاسوس چھوڑے جاتے ہیں کہ یہ پیرائل گورنمنٹ قائم کی جا رہی ہے اس کا انسداد کرنا چاہئے۔ہمارے نزدیک تو وہ انگریز راستباز ہیں جنہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں میں مقدمہ بازی کی عادت بہت بڑھی ہوئی ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپس میں فیصلہ کر لیا کریں مگر یہ مقامی حکام جو جاسوسیاں کرتے پھرتے ہیں ان کے متعلق سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ یہ فتنہ و فساد پر آمادہ ہیں۔(خطبہ کے بعد میری نظر سے ایک اخبار گزرا۔جس میں درج ہے کہ گجرات کے ایک پٹواری کو ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب نے ایک خاص خوشنودی کی سند بھجوائی ہے کیونکہ وہ پچیس سال سے گاؤں کے جھگڑے گاؤں میں ہی طے کرا دیا کرتا