خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 233

خطبات محمود ۲۳۳ سال ۱۹۳۵ء تھا۔ہز ایکسی لینی کا تو یہ رویہ ہے کہ وہ اس شخص کو جو لوگوں کو عدالتوں کے اخراجات سے بچا تا تھا سند خوشنودی دیتے ہیں مگر ان کے ماتحتوں کا یہ رویہ ہے کہ وہ ایک ویسا ہی کام کرنے والی جماعت کی جاسوسیاں کرتے اور اسی کام کی وجہ سے اس کے خلاف رپورٹیں کرتے ہیں اور نا واجب ذرائع سے بغیر اس کے کہ انہیں صفائی پیش کرنے کا موقع دیں، ان کے خلاف بزعم خود مواد جمع کرنے کی کوشش ،ان کرتے ہیں کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک ہی کام کے لئے ایک کو خوشنودی کی سند دی جاتی ہے اور دوسرے کی پہچاس سالہ خدمات پر پانی پھیر دیا جاتا ہے اور اسے ظالمانہ طور پر بد نام کیا جاتا ہے ) ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ معزز سے معزز انگریز تو یہ کہیں کہ ہندوستانیوں میں مقدمہ بازی بہت بڑھی ہوئی ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ وہ بجائے عدالتوں میں جانے کے گھروں میں فیصلہ کر لیا کریں مگر جب ہم ان کی بات مان کر گھروں میں جھگڑوں کا تصفیہ کرنے لگیں تو یہ پیرائل گورنمنٹ بن جائے۔اگر معمولی جھگڑوں کا گھر میں فیصلہ کرنے کا نام ہی پیرائل گورنمنٹ ہے تو حکومت وضاحت سے اس کے متعلق اعلان کر دے ہم اُسی وقت یہ کام چھوڑ دیں گے مگر ادھر یہ بھی جرات نہ کرنی تا کہ ملک میں شور نہ پیدا ہو اُدھر چپکے چپکے ہمارے خلاف کا رروائیاں کرنا اور خفیہ سرکلر جاری کرنے انصاف کے بالکل خلاف ہے۔گورنمنٹ اگر فوری طور پر اعلان نہیں کر سکتی تو وہ ایک میٹنگ کرے اور اس میں فیصلہ کرے کہ پیرائل گورنمنٹ کس چیز کا نام ہے؟ پھر اگر وہ یہ فیصلہ کر دے کہ رعایا میں سے کسی کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ امور جو نا قابل دست اندازی پولیس ہوں ان میں فیصلہ دے سکے اور جھگڑوں کو باہم نمٹا سکے تو اس کے بعد اگر ہم کوئی مقدمہ سنیں تو بے شک پیرائل گورنمنٹ کا الزام ہم پر لگائے لیکن اگر وہ یہ فیصلہ کرنے کی جرات تو نہ کرے مگر الزام بدستور قائم رکھے تو وہ سمجھ لے کہ یہ امر اس کی نیک نامی نہیں بلکہ بدنامی کا موجب ہو گا اور لوگ سمجھیں گے کہ وہ ظالم ہے اور ہم مظلوم۔پھر ہمارے معاملہ میں تو گورنمنٹ کو کوئی دقت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ہمارا مذ ہب یہ ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔پس جس دن وہ اعلان کر دے گی اُسی دن ہم اس کی بات مان لیں گے لیکن ہمارے اس اعلان کے باوجود کہ ہم گورنمنٹ کی ہر وقت اطاعت کرنے کے لئے تیار ہیں اگر حالت یہ ہو کہ حکومت پنجاب کے اعلیٰ افسر لاہور میں بیٹھے ہوئے تو کہہ دیں کہ گورداسپور کے فلاں فلاں افسروں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ فلاں فلاں آدمیوں سے کام نہ لیں اور احمدیوں کے خلاف