خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 231

خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۵ء دیکھتی ہے اتنے میں اس کی اپنی ماں اسے دیکھ لیتی ہے اور وہ پیار سے کہتی ہے میرے بچے ! آ جا۔پس تم اس وقت جس کو ماں سمجھ کر اس کی گود میں بیٹھنے کے لئے جاتے ہو وہ تمہاری ماں نہیں تمہاری ماں تو محمد ﷺ ہیں ان کی گود میں بیٹھو پھر تمہیں کوئی شخص کچھ نہیں کہہ سکتا پس بدل دو ان الفاظ کو جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ہیں، بدل دوان اصطلاحات کو جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہماری ہیں تم محمد ﷺ کی اتباع میں ان الفاظ کو استعمال کرو جو تمہارے ہیں اور دوسرا کوئی شخص ان پر قبضہ نہیں کر سکتا۔بھلا کیا ضرورت ہے ہمیں مدعی یا مد عاعلیہ کہنے کی۔حدیثوں میں کہیں اس قسم کے الفاظ نہیں آتے ، بے شک فقہاء نے ان الفاظ کو استعمال کیا مگر ہمیں فقہاء کی نقل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ محمد ﷺ کی نقل کرنے کا حکم ہے۔حدیثوں سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص نے شکایت کی اور جس شخص کے خلاف شکایت کی گئی تھی اسے بلا کر دریافت کیا گیا اسی طرح لکھا جاسکتا ہے کہ زید نے شکایت کی اور بکر نے یوں کیا ، نہ مدعی کا لفظ لکھو نہ مدعا علیہ کا ، نہ پیر ائل گورنمنٹ کا کوئی الزام لگائے اور نہ ہی۔آئی۔ڈی والے دھکے کھاتے پھریں۔ان کو الگ تکلیف ہے اور تم کو الگ بلکہ تم پر خدا تعالی کی بھی ناراضگی ہوگی اور وہ کہے گا دوسروں کی بغل میں گھس کر تم نے کیا لیا۔پس میں جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اصطلاحات کے استعمال میں اسلامی شریعت کی نقل کریں نہ کہ دنیا کی دوسری قوموں کی اور جماعت کو خواہ مخواہ بد نام نہ کریں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی ایک دفعہ حواریوں سے کہیں کہہ دیا کہ تلواریں خرید و سکتو جھٹ ان کے خلاف شکایت کی گئی۔حالانکہ اُس وقت حکومت نے تلواریں رکھنے کی اجازت دی ہوئی تھی مگر شکایت پر حکومت ان کے خلاف گرید گرید کر دریافت کرنے لگی اس پر حضرت مسیح نے اپنے حواریوں سے کہا اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو اور تلواروں کو جانے دو تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ فار میں بنا ؤ اور حکومت کے دل میں شبہ پیدا کر و۔اس میں شک نہیں کہ لوگوں کے معمولی جھگڑوں کا ہم آپس میں تصفیہ کرا دیتے ہیں مگر یہ اس لئے کہ گورنمنٹ خود کہتی ہے جن امور میں پولیس کی دخل اندازی ضروری نہ ہو ان میں آپس میں فیصلہ کر لینے کی اجازت ہے اور اس سے کوئی شخص روک نہیں سکتا۔پس شوق سے جھگڑوں کا فیصلہ کر دونگر یہ احتیاط رکھو کہ وہ الفاظ استعمال نہ کرو جن کو گورنمنٹ استعمال کرتی ہو۔عربی کے لفظ لو اور ان کو