خطبات محمود (جلد 16) — Page 230
خطبات محمود ۲۳۰ سال ۱۹۳۵ء ہو کر گھر آتے تو ایک گھڑا الٹا کر اُس پر بیٹھ جاتے۔بیوی کہتی نمک چاہئے وہ بیوی کو مخاطب کر کے کہتے۔ریڈ ر! فلاں مسل لاؤ۔بیوی مسل لے آتی اور وہ اسے پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر غور کرتے پھر کہتے اچھا اس میں درج کیا جائے کہ ہمارے حکم سے اتنا نمک دیا جاتا ہے۔ایک دن اس بیچارے کی بدقسمتی سے کچہری میں سے کچھ مسلیں چرائی گئیں تحقیق شروع ہوئی تو اس کا ایک ہمسایہ کہنے لگا سرکار مجھے انعام دے تو میں مسلوں کا پتہ بتا سکتا ہوں۔اسے کہا گیا اچھا بتاؤ۔اسے چونکہ روز ہمسایہ کے گھر سے مسلوں کا ذکر سنائی دیتا تھا اس نے جھٹ اس بوڑھے کا نام لے دیا۔اب پولیس اپنے تمام ساز وسامان کے ساتھ اس کے گھر کے گرد جمع ہوگئی اور تلاشی شروع ہوئی مگر جب مسلوں کی برآمد ہوئی تو کوئی نمک کی مسل نکلی ، کوئی گھی کی مسل ، اور کوئی مرچوں کی۔یہی نظارہ میں آج کل یہاں دیکھتا ہوں ہمارے کچھ دوست یہ سمجھ کر کہ مغربی چیزیں بڑی اچھی ہیں ، ان کی نقل کرنی شروع کر دیتے ہیں مثلاً کا غذ پر بلاوے کی بجائے سمن لکھ دیتے ہیں اس پر جھٹ گورنمنٹ کو فکر پڑ جاتی ہے کہ یہ پیر الکن گورنمنٹ قائم ہو رہی ہے اور وہ جاسوس چھوڑ دیتی ہے۔مگر ثابت ہوتا ہے تو یہ کہ ایک رقعہ کو جوغلطی سے سمن کہ دیا گیا تھا یا ایک اور ناواقف نے اسٹامپ کی نقل کرتے ہوئے کاغذ کی قیمت ایک آنہ رکھ لی نقلیں کرنے والا تو اپنے عمل سے انگریزوں کی تعریف کرتا ہے مگر وہ اُلٹا اسے اپنی تو ہین سمجھتے ہیں صاف پتہ لگتا ہے کہ اپنی نقل کرنے کی اجازت دینا بھی بڑے حوصلہ والوں کا کام ہوتا ہے۔یہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہی کام تھا کہ آپ نے ساری دنیا کو کہا آؤ اور میری نقل کر لو۔انگریزوں میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے کاموں کی دوسروں کو قتل کرنے دیں پس یہ حوصلے والوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ کہیں کرو ہماری نقلیں مگر یہاں تو ان بیچاروں کو سمن کا لفظ لکھنے سے ہی گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔یا کسی نے مدعی کا لفظ لکھ دیا تو اس پر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہ لفظ عربی کا ہے اور ہمارا ہے مگر تعجب ہے کہ انہوں نے یہ لفظ تو ہم سے لیا اپنے گھر سے نہیں لائے مگر اب ہم پر ہی یہ اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ تم اسے کیوں استعمال کرتے ہو لیکن میں کہتا ہوں اس جھگڑے سے فائدہ کیا ؟ جھگڑا ایک ذلیل چیز ہے اسے چھوڑ دو۔پھر ہمارے لئے تو ان اصطلاحات کو چھوڑنا اس لحاظ سے بھی واجب ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کہا سے محمد ﷺ کی نقل کرو اور کسی کی نقل نہ کرو پس تمہاری مثال تو اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسے بچہ بعض دفعہ بھول کر کسی اور عورت کی گود میں چلا جاتا ہے وہ ناک چڑھاتی اور نفرت کی نگاہ سے اسے