خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 229

خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۵ء ہوں وہ خدا تعالیٰ کے بندوں پر چسپاں ہوں گی اور جو دنیا کی چیزیں ہوں گی وہ دنیا داروں پر چسپاں ہوں گی پھر زیادہ ذلت یہ ہوگی کہ ہم بجائے کسی اچھی چیز کی نقل کرنے کے ایسی باتوں کی نقل کرنے والے ہوں گے جو اسلام کے خلاف ہوں گی۔ہمیں تو خدا تعالیٰ نے دنیا میں عقلیں قائم کرنے اور نقلوں کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے نہ کہ دنیا داروں کی نقلیں کرنے کے لئے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے تمام کاموں میں شریعت کی پیروی کیا کریں، محمد ﷺ کی پیروی کیا کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کیا کریں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے مجھے ایک کاغذ دکھایا گیا میں نے تو اتنا ہی دیکھا کہ اس کاغذ پر اس قسم کا نقشہ تھا جیسے فارموں وغیرہ پر ہوتا ہے مگر بتانے والے نے بتایا کہ یہ ایک آنہ پر بکتا ہے اور معلوم ہوا کہ ہماری لوکل انجمن نے اس کو ایجاد کیا ہے۔انہوں نے سرکاری اسٹامپ دیکھے تو خیال آیا کہ ہم بھی ایک کاغذ بنا کر اس کی کچھ قیمت مقرر کر دیں۔کہتے ہیں کو اہنس کی چال چلا اور وہ اپنی چال بھی بھول گیا۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا مگر یہ ضرور کہوں گا کہ ہنس کوے کی چال چلا اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ہمیں ڈ نیوی گورنمنٹوں سے بھلا واسطہ ہی کیا ہے کہ ہم ان کی نقل کریں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قسم کی فارم میں کبھی نہیں بنائیں پھر دشمن کو اعتراض کا خواہ مخواہ موقع دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔اسی قسم کی باتوں کے نتیجہ میں دشمن کو حرف گیری کا موقع ملتا ہے اور وہ کہتا ہے خبر نہیں یہ کیا چیز بنا رہے ہیں ، کرنے والا کوئی ہوتا ہے اور بد نام سلسلہ ہوتا ہے۔لوکل کمیٹی والوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے گورداسپور میں ایک بڑھا شخص رہا کرتا تھا لمبا ساقد اور بڑی سی ڈاڑھی تھی ، عرائض نویس یا نقل نویس تھے ، ان کا طریق تھا جب کسی دوست کو دور سے دیکھتے تو بجائے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کے اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَر کہنا شروع کر دیتے اور جب پاس پہنچتے تو اس کے انگوٹھے پکڑ کر الله اكبر کہنے لگ جاتے اور ساتھ ساتھ اُچھلتے بھی جاتے تھے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس اکثر ملنے کے لئے آ جاتے تھے۔انہیں بھی ہمارے لوکل کمیٹی کے پریذیڈنٹ کی طرح نقل کا شوق تھا۔وہ غریب چونکہ روز مسلوں کا کام سنا کرتے اس لئے ان کا بھی دل چاہتا کہ میں مجسٹریٹ بنوں اور مسلیں لانے کا آرڈر دیا کروں مگر چونکہ یہ ہوس پوری نہ ہو سکتی تھی اس لئے انہوں نے گھر میں نمک کی مسل ، گھی کی مسل، مرچوں کی مسل اور ایندھن کی مسل بنارکھی تھی۔جب وہ دفتر سے فارغ