خطبات محمود (جلد 16) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۵ء مطلب ہے کہ مختلف ملکوں میں جا کر تبلیغ کرو اور یہ بھی مطلب ہے کہ تبلیغ میں تنوع پیدا کر و۔چھوٹے چھوٹے اشتہارات شائع کئے جائیں اور تبلیغ کی جائے ، بڑے بڑے پوسٹر شائع کئے جائیں اور تبلیغ کی جائے ،معمولی ٹریکٹ لکھے جائیں اور تبلیغ کی جائے ، بڑی بڑی کتابیں لکھی جائیں اور تبلیغ کی جائے ، پھر ایک ایک مضمون پر علیحدہ علیحدہ ٹریکٹ لکھے جائیں اور مختلف مضامین پر جامع کتابیں لکھی جائیں ، اسی طرح چھوٹے چھوٹے قطعات لکھے جائیں اور تبلیغ کی جائے ، پھر بڑی بڑی نظمیں لکھی جائیں اور تبلیغ کی جائے ، غرض گیسو کے یہ بھی معنی ہیں کہ کثرت سے تبلیغ کرو اور یہ معنی بھی ہیں کہ کثرت سے تبلیغ کے لئے ہر قسم کا مصالحہ بہم پہنچا وَلَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تا کہ تم دنیا میں کامیاب ہو جاؤ۔یہ دو چیز میں اگر جماعت قبول کرے یعنی موت قبول کرے اور باہر کے ملکوں میں نکل جائے اور وہاں کثرت سے اور مختلف طریقوں سے کام لے کر تبلیغ کرے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم تم پر اپنا فضل نازل کرنا شروع کر دیں گے کسی شاعر نے کہا ہے بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا ہمارا بھی ایک ہی نگاہ پر فیصلہ ٹھہرا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم موت کے بعد ترقی کر سکتے ہو وہاں موت یہ تھی کہ تلوار کا جہاد کرو اور اپنی جانیں دے دو یہاں یہ موت ہے کہ اموال خرچ کرو اور جاؤ اور ہر ملک میں تبلیغ کرو جس دن تم فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ پر عمل کرو گے اور ذکر کثیر کرو گے، اُسی دن تم کا میاب ہو جاؤ گے۔خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ایک وقت تک ترقی کو اپنے اختیار میں رکھتا ہے اور پھر ا سے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے۔جب تک قرآن مجید مکمل نازل نہیں ہو اتھا اُس وقت تک ہدایت اُس نے اپنے اختیار میں رکھی تھی مگر جب قرآن مجید مکمل نازل ہو گیا تو یہ بندوں کی مرضی پر منحصر ہو گیا کہ اگر وہ چاہیں تو ہدایت قبول کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی تفسیر اور اس کے معارف کا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کر دیا، نشانات ظاہر کئے اور بینات سے سلسلہ احمدیہ کی صداقت روشن کر دی، پھر ہمارے ہاتھ میں دلائل کی تلوار بھی دے دی کہ ہم اسے استعمال کریں اب اگر ہم احمدیت کی اشاعت نہیں کرتے تو یہ ہمارا قصور ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے دین کی اشاعت کے لئے جن دلائل و بینات کی ضرورت تھی وہ ہمیں دے دیئے اور اپنا کام ختم کر دیا۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ باہر کے ملکوں میں نکلیں اور احمدیت کو پھیلائیں اور یقیناً