خطبات محمود (جلد 16) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۵ء جس دن ہم ساری دنیا میں پھیل جائیں گے ، جس دن کوئی ملک ایسا نہیں رہے گا جس میں احمدیت کا بیج ہم نے نہ بویا ہو تو اُس دن اس ملک کی کنجیاں بھی خدا تعالیٰ ہمارے ہاتھ میں دے دے گا جو ہمارے لئے مثیلِ مدینہ ہو گا اور ہمیں وہ قومیں مل جائیں گی جو جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ احمدیت میں داخل ہونی شروع ہو جائیں گی۔اس کے بعد فرماتا ہے وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهَوَا أَنْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا بعض لوگ غلطی سے بعض حدیثوں کی بناء پر یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خطبہ پڑھا رہے تھے کہ بازار میں بعض تاجر غلہ وغیرہ لے کر آئے صحابہ کو معلوم ہوا تو وہ رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر چلے گئے اور غلہ خرید نے لگ گئے۔یہ حدیث ایسی عجیب قسم کی ہے کہ جن الفاظ میں بیان کی جاتی ہے ان میں میں اسے صحیح ماننے کے لئے تیار نہیں۔ممکن ہے چند کمزور ایمان کے لوگ کسی وقت اُٹھ کر چلے گئے ہوں مگر یہ مانا کہ آپ خطبہ کر رہے ہوں اور آپ کو چھوڑ کر ا کثر صحابہ بھاگ گئے ہوں اس نظارہ کا خیال بھی میرے دل پر لرزہ طاری کر دیتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس شکل میں اس روایت کو کوئی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔مدینہ تو سارے مسلمانوں کا ہی شہر تھا وہاں منڈی میں غلہ کس نے خریدنا تھا کہ تمام مسلمان خطبہ میں سے اُٹھ آئے۔جب تمام مسلمان اُس وقت مسجد میں موجود تھے اور رسول کریم ﷺ کا خطبہ سن رہے تھے تو غلہ کس نے خریدنا تھا ؟ کیا دیواروں اور دروازوں نے ، اسی جگہ مثلاً قادیان کے بازار میں اگر تجارت کا مال لایا جائے تو جو خریدنے والے ہوں گے وہ تو یہاں بیٹھے ہوں گے انہیں دوڑ کر جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ہاں ممکن ہے مسلمان تاجروں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہند و تا جرخریدلیں گے اسی طرح وہاں بھی چند مسلمان تاجروں کے دل میں یہ خیال ہو سکتا تھا کہ یہودی تاجر مال تجارت کہیں خرید نہ لیں مگر اس صورت میں بھی زیادہ سے زیادہ دس ہیں تاجر مسجد سے جاسکتے تھے مگر اکثر صحابہ کیوں بھاگے ؟ سب کے سب صحابہ تو اس قسم کی تجارت نہیں کیا کرتے تھے پس یہ بالکل خلاف عقل بات ہے کہ تسلیم کیا جائے رسول کریم کھڑے خطبہ پڑھا رہے ہوں اور اکثر مسلمان بھاگ گئے ہوں ممکن ہے دو تین آدمی اُٹھ کر چلے گئے ہوں اور کسی نے دوسرے کے پاس یہ بات بیان کی ہو تو سننے والے نے یہ سمجھا ہو کہ اکثر ہی چلے آئے تھے اور رسول کریم ﷺ کی ذات اکیلی رہ گئی تھی۔بہر حال صحابہ کے متعلق اس قسم کا خیال درست