خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 807 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 807

خطبات محمود ۸۰۷ سال ۱۹۳۵ء فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ کیا تم آخرت کے بدلہ میں دُنیوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو ؟ یعنی اصل وجہ دینی خدمت میں ستی کی یہی ہے کہ آدمی خیال کر لیتا ہے۔کون اپنا کام چھوڑ کر جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں جنت کی زندگی پسند نہیں ہے اور اگر واقعہ میں پسند نہیں۔وہ کیوں خواہ مخواہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ایک شخص اپنے دوست کیلئے پلاؤ تیار کراتا ہے مگر وہ کہتا ہے پھینکو اسے مجھے روٹی ہی اچھی ہے تو وہ ہر گز اُسے زبر دستی پکڑ کر پلاؤ اُس کے منہ میں نہیں ڈالے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تم سے کہا جاتا ہے کہ آؤ جنت کے لئے سامان مہیا کر لو تو تم اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ تمہیں اُخروی زندگی پسند نہیں۔اور جب تمہیں پسند نہیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ جنت دوں۔اس دنیا میں ہی تم جتنا مزا اٹھانا چاہتے ہو اُٹھا لومگر جنت کی مجھ سے امید نہ رکھو۔ہاں ایک نصیحت ہے جو میں تمہیں کرنا چاہتا ہوں یہ تمہاری مرضی ہے کہ بے شک دنیوی زندگی کو پسند کر لو مگر یہ تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ یہ ختم ہو جانے والی ہے۔آخرت کے مقابلہ میں یہ دنیا چند سالہ ہے اگر تم یہ سمجھ لو کہ یہی زندگی زیادہ شیر میں ہے تو بھی تم اسے تو تسلیم کر و گے کہ اس کا عرصہ بہت تھوڑا سا ہے اور آخرت اگر اس سے کم اچھی ہے تو بھی وہ لمبی ضرور ہے۔کیا کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ ایک وقت وہ پلاؤ کھالے اور باقی عمر اُسے سوکھی روٹی کھانی پڑے جس سے دانت ٹوٹ جائیں۔پس اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ آخرت کی زندگی کا مزہ اس زندگی سے کم ہے تو بھی وہ اچھی ہے کیونکہ وہ لمبی ہے اور کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک وقت پلاؤ زردہ کھا کر عمر بھر فاقہ سے رہے اس کے مقابلہ میں باقاعدہ دال روٹی کو وہ زیادہ پسند کرے گا۔تو اللہ تعال فرماتا ہے کوئی وجہ نہیں کہ تم اس دنیا کو اگلے جہان پر ترجیح دو۔پھر فرمایا۔إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَّ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَّ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔اگر تم اس کام کے لئے نہیں نکلو گے تو تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔يُعَذِّبُكُمُ عَذَابًا أَلِيمًا وہ تم کو درد ناک عذاب میں مبتلاء کرے گا۔آج تو تم یہ شکایت کرتے ہو کہ دشمن تمہیں گالیاں دیتے ہیں اور دل دُکھتا ہے لیکن اگر تم تبلیغ کرتے تو یہ حالت کیوں ہوتی۔یہ تم چالیس سالہ سستی کا ہی نتیجہ بھگت رہے ہو اگر ہر فرد نے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ایک ایک مہینہ ہی لگایا ہوتا تو آج ہمیں تسلی ہوتی اور ہم کہہ سکتے تھے کہ خدایا ! ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔یہ گالیاں تیری تقدیر کی وجہ سے مل رہی ہیں لیکن تم اپنے