خطبات محمود (جلد 16) — Page 806
خطبات محمود ۸۰۶ سال ۱۹۳۵ء کہ تم مسلمانوں سے پوچھو کہ وجہ کیا ہے جب تم سے کہا جاتا ہے کہ دور دور نکل جاؤ یا کچھ حصہ اپنے اوقات کا خدا کے لئے دو تو انسا قسلْتُم تم دنیا کے کاموں میں محور بہتے ہو اور اس حکم کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہو۔وہی سوال میں آج آپ لوگوں سے کرتا ہوں۔دشمن ہماری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے جب میں نے یہ خطبہ پڑھا تھا تو کیا اُس نے آنکھیں بند کر لی تھیں ؟ نہیں بلکہ جب ان مخالفوں نے جو اُس وقت مجلس میں بیٹھے تھے یہ خطبہ سنا تو چاروں طرف دیکھا کہ کون ہے جو اس پر لبیک کہتا ہے پھر جب یہ اخباروں میں چھپا اور دشمنوں نے اسے پڑھا تو سب دشمن دیکھنے لگے کہ احمدی اس پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔وہ سال بھر دیکھتے رہے کہ احمدی اِنَّا قَلْتُمْ کے مصداق ہوتے ہیں یا نفور کرتے ہیں۔بیشک یہ صیح ہے کہ اگر غیر احمدیوں کے سامنے یہ مطالبہ پیش کیا جاتا تو باوجود اس کے کہ ان کی تعداد آٹھ کروڑ ہے ان میں سے اتنے لوگ بھی اپنے آپ کو پیش نہ کرتے جتنے احمدیوں نے پیش کئے ہیں مگر ہم نے غیروں پر ناز کرنا ہے یا اپنے رب کو راضی کرنا ہے ؟ اگر ہمارا کام فخر کرنا ہی ہوتا تو ہم ہر سٹیج پر جا کر یہ کہہ سکتے تھے کہ تم لوگ ہمارا کیا مقابلہ کر سکتے ہو تم مُردہ ہو اور ہم زندہ لیکن جب ہم نے خدا تعالیٰ کو جواب دینا ہے تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم میں سے بہت لوگ ابھی ست ہیں۔کیا کوئی عقل مند مجسٹریٹ کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ میں قتل کے جرم سے اس لئے بری ہوں کہ میں نے صرف ایک تلوار ماری تھی اور فلاں نے دس۔اگر کسی مجسٹریٹ کے سامنے جس کی عقل پر پردہ نہ پڑا ہوا ہو یہ عذر نہیں چل سکتا تو خدا تعالیٰ کے حضور یہ جواب کس طرح پیش کیا جا سکتا ہے۔جب کوئی عقل مند کسی مجسٹریٹ کے سامنے یہ عذر پیش نہیں کر سکتا تو تم خدا تعالیٰ کے حضور کس طرح پیش کر سکتے ہو۔تم خدا تعالیٰ کے سامنے یہ عذر بھی پیش نہیں کر سکتے کہ ہم میں تعلیم نہ تھی کیونکہ وہ کہے گا کہ جن کو تم نے تبلیغ کرنی تھی کیا وہ سارے تعلیم یافتہ ہی تھے ؟ میں تم پر فضل کرنے والا ہوں اور جانتا ہوں کہ احمدی ہوتے ہی میں نے تمہاری عقل اور فہم کو تیز کر دیا تھا۔میں تمہارا اُستاد ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ عذر جھوٹ ہے۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا سچا دین قبول کرتا ہے تو اس کو عقل اور علم دونوں دیئے جاتے ہیں پس تم یہ جواب بھی نہیں دے سکتے۔تم غیر کو تو دھوکا دے سکتے ہو مگر اپنے خدا کو جو تمہارا اُستاد ہے دھوکا نہیں دے سکتے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَضِيْتُمُ بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا