خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 808 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 808

خطبات محمود ۸۰۸ سال ۱۹۳۵ء دل کوٹو لو کہ خدا کی دستگیری کی وجہ سے تم احمدی ہوئے ہو یا احمدیوں کی کوششوں سے۔ہر شخص محسوس کرے گا کہ زیادہ تر اُس کی احمدیت میں خدا تعالیٰ کے فضل کا دخل ہے۔اس میں شک نہیں کہ احمدی بھی کوششیں ضرور کرتے ہیں لیکن سینکڑوں، ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو خوابوں کی بناء پر احمدیت میں داخل ہوئے بہت سے ایسے ہیں کہ انہوں نے خود تحقیقات کی۔اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس احمدی پہنچے۔انہوں نے ان کو مارا پیٹا ، گالیاں دیں مگر آخر کار وہ احمدی ہو گئے مگر زیادہ تر وہی ہیں جنہوں نے اپنی خوابوں یا اپنی تحقیقات یا مخالفوں کے ذریعہ ہدایت پائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک بڑے ادیب آئے اور بیعت کی وہ ایک اردو زبان کی لغت تیار کر رہے تھے مگر ختم کرنے سے پہلے فوت ہو گئے۔ریاست رام پور کی طرف سے ان کے لئے وظیفہ مقرر تھا۔بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو تبلیغ کس نے کی؟ تو انہوں نے بے ساختہ جواب دیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے۔جب ان پوچھا گیا کس طرح؟ تو انہوں نے کہا کہ اُن کی مخالفانہ تصانیف کو دیکھ کر خیال پیدا ہوا کہ یہ کوئی اہم معاملہ ہے۔پھر اتفاقا کہیں درنشین مل گئی اُسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اسلام دشمنی کا جو الزام وہ لگاتے تھے سراسر جھوٹ تھا۔اس پر مزید مطالعہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے سینہ کھول دیا۔تو ہزاروں ایسے لوگ ہیں جن کو مخالفوں نے تبلیغ کی اور آج بھی جتنے لوگ احمدیت کے نام سے واقف ہیں ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو احرار کی کوششوں کی وجہ سے واقف ہیں ہماری وجہ سے کم ہیں۔اس لئے ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تبلیغ کے لئے نہیں نکلو گے تو درد ناک عذاب میں مبتلاء کئے جاؤ گے اور اس سے زیادہ درد ناک عذاب کیا ہو سکتا ہے کہ ہماری غفلت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے مامور اور اُس کے نشانوں کو گالیاں دی جائیں۔اگر دل میں ذرہ بھی ایمان ہو اس نظارہ سے دل پھٹ جاتا ہے مگر اس سے بھی زیادہ ایک اور عذاب ہے۔چنانچہ فرمایا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ۔پہلے تو تمہیں دُکھ دلوائیں گے اور پھر تم کومرتذ کرا دیں گے اور تمہاری جگہ اور لوگ ایمان لے آئیں گے۔استبدل۔ایک چیز لے لینے اور دوسری دینے کو کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے اور دوسروں کو ایمان نصیب کر دیں گے۔وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا اور وہ بڑی بڑی ڈینگیں مارنے والے جو کہا کرتے تھے کہ ہم نے یوں قربانی کی اور اس طرح دین کی امداد کی اُن سے