خطبات محمود (جلد 16) — Page 780
خطبات محمود ۷۸۰ سال ۱۹۳۵ء کہا کرتے تھے کہ میں روحانی بادشاہ ہوں مگر جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی حکومت قیصر کی حکومت کے مقابل میں نہ تھی اور وہ باوجود روحانی بادشاہ ہونے کے دُنیوی بادشاہ کے تابع تھے اسی طرح با وجود اس کے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے روحانی بادشاہت حاصل ہے ہم بھی حکومت انگریزی کے تابع ہیں اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا ضروری جانتے ہیں۔تو حضرت مسیح چونکہ یہ کہا کرتے تھے کہ میں روحانی بادشاہ ہوں اس لئے اُس وقت کے احراری آپ کے متعلق یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ آپ حکومت کے باغی ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ اُس زمانہ کے احراری آپ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ ہم قیصر کو جزیہ دیں یا نہ دیں؟ حضرت مسیح نے کہا وہ قیصر تم سے کیا مانگتا ہے؟ انہوں نے کہا ہم سے سکہ مانگتا ہے آپ نے فرمایا مجھے سکہ دکھاؤ۔اس پر کس کی تصویر ہے؟ جب انہوں نے سکہ دکھایا تو اُس پر قیصر کی تصویر تھی۔آپ نے اُسے دیکھ کر فرمایا جو قیصر کا مال ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا مال ہے وہ خدا کو دو۔اس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ قیصر کا مال چونکہ سکہ ہے اس لئے یہ اُسی کا حق ہے۔اور اسی کو دینا چاہئے ہاں جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا کو دینا چاہئے۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ جو حکومت کا حق ہے وہ اُسے دو اور جو تمہارا حق ہے وہ تم لو۔اور حضرت مسیح کی وضاحت کے بعد ایک عیسائی حکومت کو ہمارے اس فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔غرض حکومت نے چونکہ اپنے قانون میں یہ امر داخل کیا ہے کہ جو شخص چوری کرے گا ہم اسے سزا دیں گے پس یہ حکومت کا حق ہے۔اور اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اُسے سزا کیلئے حکومت کے پاس لے جانا چاہئے۔اور اگر کسی امر کے متعلق حکومت یہ کہتی ہے کہ اسے پولیس کے پاس لے جاؤ تو تم اُسے پولیس کے حوالہ کر دو۔مگر پہلے اپنے بزرگوں اور بڑوں سے مشورہ کر لو۔کیونکہ ممکن ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ فلاں کیس پولیس کی دست اندازی کے قابل ہے مگر در حقیقت ایسا نہ ہو بلکہ آپس میں مصالحت ہو سکتی ہے پس سلسلہ کے بزرگوں اور ان کی معرفت وکلاء سے مشورہ ضروری ہے۔پس جوحکومت کا حق ہے وہ اُسے دو مگر جس چیز کے متعلق حکومت یہ نہیں کہتی کہ وہ اُس کا مال ہے وہ تمہارا مال ہے اُسے لے لو۔اگر کوئی گالی دیتا ہے یا بداخلاقی کرتا ہے یا چغل خوری کی عادت رکھتا ہے یا نظام سلسلہ کی ہتک کرتا ہے اس کے متعلق تمہیں حق حاصل ہے کہ تم سزا دو پس اس دائرہ میں تمہاری حکومت ہے اور بیشک تم دلیری سے اپنا حق لو تمہیں کوئی منع نہیں کرتا اور نہ حکومت تم کو کبھی اس