خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 779 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 779

خطبات محمود 229 سال ۱۹۳۵ء ٹیفکیٹ حاصل کریں۔مگر بہر حال سال کے ۳۶۵ دنوں میں سے ، میں یہ نہیں کہتا کہ دوسو دن ، میں یہ نہیں کہتا کہ تین سو دن میں یہ بھی نہیں کہتا کہ ۳۴۰ دن بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ پورے ۳۶۵ دن تمہیں حاضر ہونا چاہئے سوائے اس کے کہ کور کی طرف سے چھٹی کا دن ہو۔اور اگر ایک بھی دن تم غیر حاضر ہوئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سکیم باطل ہوگئی۔اس کے بغیر وہ اخلاق پیدا نہیں ہو سکتے جن کو میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔پس کور کے افسروں کا فرض ہے کہ وہ والنٹیئروں سے کہہ دیں کہ جو اپنا قدم پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں وہ ہٹا لیں اور اگر وہ شامل رہنے کے لئے تیار ہیں تو ماں باپ اور محلے والے سب اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ با قاعدہ کام کریں۔اور خواہ آندھی آئے یا طوفان ، بارش برسے یا اولے ایک دن بھی اس کام میں بغیر افسروں کی اجازت یا حکم کے ناغہ نہ کیا جائے۔اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس نظام کے ماتحت کام کرنے والے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں با قاعدہ ہوں گے۔اگر وہ دُکان کریں گے تو باقاعدہ کریں گے ، تجارت کریں گے تو باقاعدہ کریں گے ، زراعت کریں گے تو با قاعدہ کریں گے۔غرض وہ ہر کام میں باقاعدہ ہوں گے۔اور اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگا ئیں گے تو سونا بنتا چلا جائے گا۔اسی طرح اخلاق کی درستی بھی والنٹیئرز کور کے افسروں کے مد نظر رہنی چاہئے۔اگر کوئی گالی دیتا ہے تو تمہارا حق ہے کہ اُسے سزا دو۔اسی طرح اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو تمہاراحق ہے کہ اسے سزا دو۔اور اگر کوئی سلسلہ کے نظام کی ہتک کرتا ہے تو تمہارا حق ہے کہ اُسے سزا دو۔گورنمنٹ کا کوئی قانون گالی کی سزا نہیں دیتا اور نہ گورنمنٹ کا کوئی قانون جھوٹ کی سزا دیتا ہے۔پس جس برائی کی سزا گورنمنٹ کے قانون میں نہیں تم اُس کے متعلق سزا دے سکتے ہو۔لیکن گورنمنٹ کا قانون چوری کی سزا دیتا ہے پس تم کسی کو اُس چوری کی سزا مت دو جس کا مقدمہ سرکاری عدالت میں جانا چاہئے۔اسی طرح وہ تمام جرائم جن کا گورنمنٹ کے قانون کے مطابق سر کاری عدالت میں لے جانا ضروری ہے ان کے متعلق تم کوئی سزا نہیں دے سکتے۔ہاں اس کے سوا سب امور میں کور کے افسر یا سلسلہ کے افسر دخل دے سکتے ہیں اور حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا موجودہ حکومت چونکہ عیسائی ہے اس لئے انجیل کے ہی ایک واقعہ سے میں اس امر کی وضاحت کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح علیہ السلام سے ایک دفعہ سوال کیا گیا کہ قیصر جزیہ مانگتا ہے ہم اسے دیں یا نہ دیں ؟ جس طرح آج ہم کہتے ہیں کہ ہماری بادشاہت روحانی ہے اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی