خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 781 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 781

خطبات محمود ۷۸۱ سال ۱۹۳۵ء بات پر پکڑے گی کہ تم نے کیوں جھوٹ بولنے والے کو سرزنش کی یا غیبت کرنے والے کو سرزنش کی یا سلسلہ کے نظام کی ہتک کرنے والے کی سرزنش کی سوائے اسکے کہ سرزنش خلاف قانون ہو۔پس اگر سرزنش خلاف قانون ہو تو یہ جُرم ہے مثلاتم یہ نہیں کر سکتے کہ کسی کو جیل خانہ میں بند کر دو یا پھانسی دے دو۔یہ گورنمنٹ کا حق ہے اور اس قسم کی سزا وہی دے سکتی ہے لیکن اگر کسی مجرم پر تم مجرم کی مرضی سے اُسے بید بھی لگانا چاہو تو لگا سکتے ہو۔ہاں اگر مرضی نہ ہو تو پھر بید لگانے کا تمہیں حق حاصل نہیں۔اور اگر لگاؤ تو یہ قانونی مُجرم ہو گا لیکن اگر ایک شخص کہتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی اور میں اب جُرم کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں تو اُسے اس قسم کی سزا دی جاسکتی ہے مگر ایسی سزا جس سے بدنی نقصان ہوتا ہو وہ اسلام میں جائز نہیں۔مثلاً یہ جائز نہیں کہ کسی کی ناک کاٹ لی جائے خواہ اُسکی مرضی ہی کیوں نہ ہو۔یا کوئی قصور کرے تو اُس کی اُنگلی کاٹ لی جائے اور جب پکڑا جائے تو کہہ دے کہ میں نے اُسکی مرضی سے اُنگلی کاٹی تھی۔اُسے نہ گورنمنٹ جائز سمجھے گی اور نہ میں ، غرض قانون کے اندر رہتے ہوئے تم قصور پر دوسروں کو سزا دو اور دوسروں کو بھی چاہئے کہ وہ سزا کوخوشی سے برداشت کریں۔جو شخص مجرم کرتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ سزا کے بغیر اسے معاف کر دیا جائے وہ بہت بڑا بدا خلاق ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ سزا سے معافی طلب کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے یا اُس کے قائم کردہ افسروں سے معافی طلب نہیں کرتا۔اگر اُسے اللہ تعالیٰ سے یا اس کے خلفاء سے معافی طلب کرنی ہوتی تو وہ کہہ دیتا کہ آپ مجھے بیشک سزا دے لیں مگر مجھ سے ناراض نہ ہوں لیکن یہ ایسا نہیں کرتا بلکہ سزا سے بچنا چاہتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ سزا سے ڈرتا ہے۔یہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں مجھے بید نہ لگیں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ خدا تعالیٰ یا اُسکے سلسلہ کی ناراضگی کا میں مورد بن گیا ہوں۔حالانکہ مؤمن کا طریق یہ ہوتا ہے کہ اگر اُس سے غلطی ہو جائے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے سزا دے لولیکن مجھ سے ناراض مت ہو اور جو ایسا نہیں کہتا اُسکے ایمان میں نقص ہے۔لیکن یہ بھی غلطی ہے کہ سمجھ لیا جائے معافی کے بعد سزا نہیں ملنی۔یہ تمہارے باپ، تمہارے خلیفہ، تمہاری پنچائت ، تمہارے قومی لیڈروں اور تمہارے افسروں کا کام ہے کہ وہ معافی کے ساتھ ہی سزا بھی معاف کر دیں لیکن معافی میں سزا کی معافی شامل نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ علیحدہ چیز ہے۔پس ایک تو نیشنل لیگ کی والینٹیئر ز کور کو میں یہ ہدایت دینی چاہتا ہوں کہ تم استقلال سے کام