خطبات محمود (جلد 16) — Page 749
خطبات محمود ۷۴۹ سال ۱۹۳۵ء والی ہوتی ہے اور اس کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ خدا کے نور کو دنیا میں پھیلائے۔اگر وہ کامیاب نہ ہو اور نور کو پھیلا نہ سکے تو اسے بھی تو ڑ دیا جاتا ہے۔وہی آئینہ جو دنیا کی حسین ترین ہستی کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اس ہستی سے محبت کرنے والے رشک کرتے ہیں وہ جب میلا ہو جاتا ہے اور کام کا نہیں رہتا تو اُسے پھینک دیا جاتا ہے اور وہ ٹکڑے ہو کر بازاروں اور گلیوں میں جوتیوں کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے پس صرف نقطہ نگاہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے جس دن یہ خیال تمہارے دل سے نکل گیا کہ احمدیت ایک سوسائٹی ہے جس میں شامل ہو کر کچھ لوگ ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور ہمدردی کرنے کا اقرار کرتے ہیں۔اور جس دن تم نے یہ سمجھ لیا کہ احمدیت خدا کے نور کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اس دن نہ میرے خطبات کی ضرورت رہے گی اور نہ کسی کے وعظ ونصیحت کی۔اُس دن ایسی تبدیلی تمہارے اندر پیدا ہو جائے گی اور ایسی آگ روشن ہو جائے گی کہ شاید تمہیں روکنے کی ضرورت تو پیش آ سکے لیکن تحریک کی نہیں۔اور جب تک یہ روح نہیں اُس وقت تک خطبات اور وعظوں کی ضرورت ہے۔پس تم یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تمہاری بعثت کی غرض ہی خدا کے نور کو پھیلانا ہے اور اس کے رستہ میں حائل شدہ روکوں کو دور کرنا ہے تو تمہاری قربانیوں کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی جاسکتی اور کیا یا کیوں یا کیسے کا کوئی سوال ہی نہیں ہو سکتا۔جو اس خیال سے قربانی میں شامل ہوتا ہے کہ ایک یا دوسال کے بعد یہ ختم ہو جائے گی اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ بالکل شامل نہ ہو۔بعض لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ یہ تحریک صرف ایک سال کے لئے ہے اور اب پھر اس سال کے لئے بھی جاری رکھنے کا آپ نے اعلان کر دیا ہے حالانکہ میں نے ہرگز ایک سال کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ تین سال کے لئے کہا تھا اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ تین سال اس کی موجودہ صورت کی میعاد ہے نہ یہ کہ تین سال کے بعد قربانیاں ختم ہو جائیں گی۔پس جو یہ خیال کرتا ہے کہ ایک سال نہیں تین سال کے بعد بھی قربانیاں ختم ہو جائیں گی اُسے چاہئے کہ اس تحریک میں ہرگز شامل نہ ہو۔میں نے یہ تحریک قربانی ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اعلیٰ قربانیوں کے لئے تیار کرنے اور ان کی مشق کرانے کے لئے جاری کی ہے پس جس کے ذہن پر قربانی کے ختم ہونے کا خیال غالب ہے ، اسے اس میں ہرگز شامل نہیں ہونا چاہئے۔انسانوں کی طرح بعض اموال بھی بابرکت ہوتے ہیں اور برکت والا مال وہی ہو سکتا ہے جس کے پیچھے اخلاص کی روح ہو۔جو آج اور کل کو دیکھتا ہے وہ میرے لئے دیتا ہے نہ خدا