خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 750 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 750

خطبات محمود ۷۵۰ سال ۱۹۳۵ء کیلئے ، اس لئے اس کے مال میں برکت نہیں ہو سکتی۔انسان ہمیشہ مرتے ہیں اور مرتے جائیں گے پس کسی انسان کی خاطر قربانی کرنا انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔قربانی وہی مفید ہوسکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے ہو اور خدا تعالیٰ کے لئے آج اور کل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔مال بھی انہی لوگوں کے بابرکت ہو سکتے ہیں جن کے لئے وقت کا سوال نہ ہو اور جن کی قربانیوں کا زمانہ اس حد تک بلکہ اس سے بھی آگے تک چلتا ہے جب تک خدا کا نور نہیں پھیلتا۔کیونکہ تبلیغ کے بعد تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر تربیت کے لئے اُسی طرح قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح تبلیغ کے لئے۔اور ایسا زمانہ کوئی نہیں ہو سکتا جب تربیت کی ضرورت نہ رہے۔مسلمان اُسی وقت کمزور ہوئے جب وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ ہمیں صرف دو تین یا چند سالوں کے لئے ہی قربانیوں کی ضرورت تھی۔پس یا درکھو کہ قربانی کا زمانہ مؤمن کے لئے کبھی ختم نہیں ہوتا۔قربانیوں کی شکلیں بدلیں گی ممکن ہے کچھ عرصہ کے بعد اور قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں مگر مؤمن کے لئے قربانی کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔جن لوگوں نے اسلام کو میری تحریک جدید کی طرح عارضی سمجھا وہی اس کا بیڑا غرق کرنے والے ہوئے۔انہوں نے تلوار کے جہاد کو ہی اسلام سمجھا اور جب وہ غیر قوموں کی حکومتوں کو مٹا چکے تو سست ہو کر بیٹھ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ نسلیں پیدا ہوئیں جو اسلام سے غافل ہو گئیں اور ہوتے ہوتے مسلمان ذلیل ہو گئے۔ایک زمانہ تھا کہ مسلمان سے زیادہ قابلِ اعتماد اور کوئی نہ سمجھا جاتا تھا۔مسلمان کہہ دیتا تھا کہ یوں ہو گا اور لوگ سمجھ لیتے تھے کہ بس بات ختم ہوگئی ضرور اسی طرح ہوگا۔لیکن آج یہ حالت ہے کہ وہ کوئی بات کرے، سننے والا یہی کہے گا کہ اس کا اعتبار کون کر سکتا ہے۔میں ایک دفعہ کشمیر گیا۔وہاں مختلف رنگوں کی لوئیوں سے گئے بنائے جاتے ہیں میں نے بھی ایک گتا بنانے کے لئے ایک شخص کو کچھ پیشگی دی لیکن جب وہ شخص گنا تیار کر کے لایا تو وہ طے شدہ لمبائی ، چوڑائی سے چوتھائی حصہ کم تھا۔میں نے اس سے کہا کہ یہ تم نے ٹھیک نہیں بنایا اور میرے کام کا نہیں اس پر وہ با ر بار یہ شور مچائے کہ جی ! میں مسلمان ہوں گو یا مسلمان کی علامت یہ سمجھی جاتی ہے کہ بددیانت ہو اس کو خطرہ تھا کہ شاید یہ اب گہا نہ لے۔اس لئے وہ بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے اس سے اور چڑ پیدا ہو۔اور میں اسے کہوں کہ تو یہ کہہ کر اسلام کو کیوں بدنام کرتا ہے کہ