خطبات محمود (جلد 16) — Page 2
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء مقصود ہیں لیکن عقل کی ہدایت یہی چاہا کرتی ہے کہ سارے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے لئے ایک مقـ قرار دے لیں اور اس کے نزدیک یہی بہادری ہوا کرتی ہے۔عقل اور جوش دونوں میں اختلاف ہوتا ہے اور دونوں اپنے اپنے لئے دلائل رکھتے ہیں۔جوش یہ کہتا ہے کہ اگر حاضر کو چھوڑ کر آئندہ کے پیچھے جاتے ہو تو یہ تم اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہو یہ جو کہتے ہو کہ ہمارا مقصود اعلیٰ ہے، یہ تم موجودہ حالات سے بچنے کیلئے کہتے ہو لیکن عقل جوش سے یہ کہتی ہے تمہارا وجود حماقت پر دلالت کرتا ہے تمہیں وسعت نظر حاصل نہیں۔بینائی کوتاہ ہے تم دور کے مرغزار نہیں دیکھ سکتے تمہارے صرف سامنے کی دو چار بوٹیاں تمہاری نظر میں ہیں اور انہی کو دیکھ کر تم وہیں بیٹھ جاتے ہو۔تمہارے قریب گدلے پانی کا چشمہ ہے تمہاری نظر اسی پر ہے مگر دور میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے اور تمہیں یہ ہمت نہیں کہ وہاں تک پہنچ سکو۔تو جوش عقل کو بزدل اور بہانہ ساز سمجھتا ہے اور اسی طرح عقل جوش کو نا بینا اور وسیع النظری سے محروم قرار دیتی ہے اور دونوں کے پاس اپنی اپنی تائید میں دلائل ہیں۔دونوں اپنے اپنے رنگ میں مضبوط ہیں لیکن صداقت کیا ہے ؟ اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے عام طور پر لوگوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ دونوں میں سے کون سی بات کچی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو خیلی طبائع جوش کی رو میں بہہ کر ایک طرف چل دیتی ہیں اور کچھ لوگ جو سمجھدار اور مستقل مزاج ہوتے ہیں وہ دوسری طرف چل دیتے ہیں۔نتائج کبھی اس کے حق میں نکلتے ہیں اور کبھی اُس کے حق میں۔جوش کی رو میں بہنے والے بعض اوقات اتنے زور سے کام کرتے ہیں کہ حالات کے نقشہ کو بدل دیتے ہیں۔وہ نقشہ جو عقلمندوں نے اپنی عقل و دانش کی بناء پر تیار کیا ہوتا ہے اس میں طبہ نہیں کہ وہ نقشہ صحیح ہوتا ہے مگر وہ نقشہ حالات کے مطابق تیار کیا ہوا ہوتا ہے۔ایک دریا بہتا ہے تم اُسے دیکھ کر یہ اندازہ کر سکتے ہو کہ یہ تین میل کے فاصلہ پر کہاں جا کر نکلے گا اور کن کھیتوں کو سیراب کرے گا مگر کوئی جوشیلا شخص اُٹھے اور دریا کے دہانہ کو کاٹ کر اُس کا رُخ دوسری طرف پھیر دے تو اس صورت میں اس اندازہ کا غلط ہونا لازمی ہے یا کوئی جوشیلا شخص دریا کے منبع کو اکھیڑ ہی ڈالے اور اس طرح پانی کو بکھیر دے تو وہ نہ دریا کی صورت اختیار کر سکے گا اور نہ کسی زمین کو سیراب کر سکے گا نہ کسی اور کام آ سکے گا۔پس اندازے ہمیشہ صحیح نہیں ہو سکتے کبھی جوش والے کامیاب ہو جاتے ہیں اور کبھی عقل کی پیروی کرنے والے اور درحقیقت کا میابی اسی کو ہوتی ہے جو وَالشَّزِعَتِ غرقاً لے کے ماتحت کام کرتا ہے اور یا پھر اسے کہ جس کے شامل حال اللہ تعالیٰ کا