خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 1

خطبات محمود 1 سال ۱۹۳۵ء نئے سال کے لئے جماعت احمدیہ کا پروگرام (فرموده ۴ /جنوری ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلِكُلِ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا یعنی ہرشخص کے سامنے کوئی نہ کوئی مقصود ہوتا ہے جسے وہ سامنے رکھ کر چلتا ہے۔یہ مقصود آگے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو اتفاقی طور پر سامنے آ جاتے ہیں جیسے گاڑی چلتے چلتے جھٹکے سے یا کسی اور سبب سے انجن سے کٹ جاتی ہے مثلاً انجن کسی چڑھائی پر چڑھ رہا ہے اور گاڑی کٹ جائے اس کٹنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ گر جائے گی۔اب یہ اس کی جہت تو ہو گی مگر ایسی جہت جو ہنگامی طور پر آپ ہی آپ پیدا ہوگئی انجن اگر چڑھ رہا تھا تو خاص ارادہ سے اور اگر گاڑیاں گری ہیں تو بغیر کسی ارادہ کے تو مقصود ہر ایک چیز کا ہوتا ہے لیکن کبھی اتفاقی طور پر وہ پیدا ہو جاتا ہے اور کبھی ارادہ سے۔جو مقصود اتفاقی طور پر پیدا ہو، اس کے لئے انسان تیار نہیں ہوتا لیکن جو ارادہ سے پیدا کیا جاتا ہے اس کے لئے انسان قبل از وقت تیار ہوتا ہے۔اب ہمارے لئے ایک نیا سال چڑھا ہے اور اسے مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس سال میں ہمارا مقصود کیا ہونا چاہئے۔ہمارے مقصود دونوں قسم کے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ ہنگامہ میں ایک طرف چل پڑیں اور یہ بھی کہ سوچ سمجھ کر اپنا ایک مقصود قرار دے لیں۔ہنگامی مواقع پر طبائع کا جوش یہی چاہا کرتا ہے کہ جدھر حالات لیتے جائیں ، چلتے جائیں اور وہ اسے بہادری اور جرأت سمجھتے