خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 644

خطبات محمود ۶۴۴ سال ۱۹۳۵ء اس وجہ سے کہ اس نے تکلیف زیادہ اُٹھائی ہے نماز نہیں ہوگی کیونکہ اس نے مقررہ طریق کے مطابق نہیں پڑھی۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص انعام لے جائے گا جس نے آرام اور اطمینان سے نماز پڑھی ہے۔تو عقل سے کام لینا اور دانائی سے مقررہ فرائض کو سر انجام دینا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کم عقل ہے۔تھوڑی تعداد ایسے نو جوانوں کی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں باقی کبھی عقل کو مد نظر نہیں رکھتے اور نہ سوچ کر کام کرنے کے عادی ہیں صرف اتنا کافی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کام کے لئے مقررہ وقت دے دیا۔پھر ایک اور نقص جو ہمارے ملک کے نو جوانوں میں خطر ناک طور پر پیدا ہو گیا ہے یہ ہے کہ ان میں عقل کا فقدان بھی نہیں ہو گا ، کام بھی محنت سے کریں گے مگر انجام کی ذمہ واری اپنے اوپر نہیں لیں گے۔بے شک یہ بات درست ہے اور میں اس کو بیان بھی کر چکا ہوں کہ جب انسان اپنی طرف سے تمام ذرائع کو استعمال کرے اور کام اتفاقا خراب ہو جائے تو اس کی ذمہ داری اُس پر نہیں ہوتی مگر میں دیکھتا ہوں کہ ۹۹ فیصدی انجام اس کے اپنے اختیار میں ہوتے ہیں اور اگر یہ چاہے تو اس کے خراب انجام سے بدل سکتا ہے مگر بدلتا نہیں۔صرف ایک فیصدی ایسے فعل ہوتے ہیں جن میں باوجود عقل سے کام لینے کے یہ ناکام ہو جاتا ہے لیکن ۹۹ فیصدی کام کی خرابیوں کی ذمہ داری اس پر ہوتی ہے اور اس کی وجہ تدبیر یا محنت کی کمی ہوتی ہے اگر اس کام کے لئے بارہ گھنٹے محنت کرنے کی ضرورت ہے تو یہ دس گھنٹے کرتا ہے۔اگر اٹھارہ گھنٹے کام کی ضرورت ہے تو یہ چودہ گھنٹے کام کرتا ہے۔بظاہر اس کا دس گھنٹے یا چودہ گھنٹے کام کرنا بہت بڑی محنت نظر آتی ہے مگر خدا کی نگاہ میں یہ محنت نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں محنت وہی ہے جو کام کے لئے ضروری ہو۔اگر یہ چوبیس گھنٹے کام کرتا اور پھر بھی فیل ہو جاتا تب تو یہ کہہ سکتا کہ اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے کوئی پچیسواں گھنٹہ نہیں بنایا لیکن جبکہ یہ اتنی محنت نہیں کرتا جتنی کام کے لئے ضروری ہے تو اس کی محنت ہرگز ایسی چیز نہیں جس کی تعریف کی جا سکے۔یہی حال عقل کا ہے کہیں یہ دس فی صدی عقل سے کام لیتا ہے حالانکہ وہاں ۱۵ فی صدی عقل سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے، کہیں یہ پندرہ فیصدی عقل سے کام لیتا ہے حالانکہ وہاں بیس فیصدی عقل سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح کام خراب ہو جاتا ہے۔بیسیوں دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ رات کے بارہ بجے تک بیٹھا رہتا ہے اور کام نہیں ہوتا اور پھر اپنی محنت کا ذکر کرتا ہے۔حالانکہ