خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 643 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 643

خطبات محمود ۶۴۳ سال ۱۹۳۵ء نسلوں میں قربانی کا مادہ نہ ہو، جب تک نئی نسلوں میں ایثار کا مادہ نہ ہو، جب تک نئی نسلوں میں محنت سے کام کرنے کا مادہ نہ ہو ، جب تک نئی نسلوں میں صداقت اور راستی نہ ہو، اور جب تک نئی نسلوں میں خلوص اور للہیت نہ ہو اور ان امور کے لئے اس کی تربیت نہ کی جائے ، اُس وقت تک یہ کام بھلا کس طرح ہو سکتا ہے۔یہ کام تو اتنا نازک ہے کہ اس کے لئے رات دن ایک کر دینا چاہئے مگر جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ میرا تجربہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان پانچ چھ گھنٹے مستقل کام کر لیں تو سمجھنے لگتے ہیں کہ انہوں نے ساری دنیا پر احسان کر دیا۔پھر وہ کام کو بوجھ سمجھتے اور اس سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر اس سے بھی زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لینے کے عادی نہیں۔بیوقوفی ان میں اتنی بڑھ گئی ہے کہ میں بعض دفعہ حیران ہوتا ہوں کہ کیسی معمولی باتیں ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔پھر اگر انہیں نصیحت کی جائے تو وہ ناراض ہوتے ہیں اور اپنی حماقت کو نہیں دیکھتے بلکہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو سات آٹھ گھنٹہ کام کیا تھا پھر نگی کیسی۔اور اس طرح پہلی حماقت کے ساتھ دوسری جواب کی حماقت کو ملا دیتے ہیں حالانکہ بے عقلی سے کام کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کسی شخص نے ایک ریچھ پالا ہوا تھا۔ایک دفعہ جب اُس کی ماں بیمار ہوئی تو وہ ریچھ کو اُس کے پاس بٹھا گیا کہ مکھیاں ہٹا تار ہے۔اسے یہ خیال نہ آیا کہ ریچھ ریچھ ہی ہے کوئی نقصان پہنچا بیٹھا تو کیسا ہو گا۔وہ مکھیاں ہٹاتا رہا مگر تھوڑی دیر کے بعد پھر مکھیاں آ بیٹھتیں۔پھر ہٹاتا پھر آجاتیں۔آخر آدمی کے ہاتھ اور اس کی عقل اور ریچھ کے ہاتھ اور اُس کی عقل میں فرق بھی تو ہے۔اگر آدمی مکھیاں ہٹاتا تو مکھیاں ہٹا کر اوپر کپڑا دے دیتا مگر ریچھ کو اس بات کی سمجھ نہیں تھی۔جب اُس نے دیکھا کہ لکھیاں بار بارآ بیٹھتی ہیں تو وہ ایک بڑا سا پتھر اٹھ لایا اور جب پھر کبھی آ بیٹھی تو اُس نے اس زور سے مکھی کو پتھر مارا کہ ساتھ ہی اُس کی ماں بھی رُخصت ہو گئی۔یہ ریچھ اگر انسان ہوتا اور کھی مارنے کے بعد اپنے آقا سے کہتا کہ لائیے انعام دیجئے۔تو کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ آقا اُسے انعام دیتا۔مگر یہ شخص ریچھ سے بھی زیادہ حماقت کا کام کرتا اور کام کو خراب کرتا چلا جاتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ اسے انعام ملنا چاہئے۔کیا دنیا کا کوئی انسان ایسا ہے جو دیانت داری سے کہہ سکے کہ ایسے شخص کو انعام ملنا چاہئے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے تو الٹا لٹک جائے۔سر نیچے اور ٹانگیں اوپر کر لے اور اس طرح نماز پڑھے۔کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اُس کی نماز ہو جائے گی ؟ محض