خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 325

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۵ء ایسی زبانوں میں بھی جنہیں لاکھوں انسان بولتے ہیں لٹریچر شائع کرنا چاہئے۔ان ٹریکٹوں اور اشتہاروں کے متعلق بہت سے مضامین میرے ذہن میں ہیں لیکن مبلغوں کو بھی چونکہ تجربہ ہوتا ہے اس لئے وہ جن مضامین پر ٹریکٹوں کی اشاعت مفید سمجھیں ان سے مجھے اطلاع دیں۔پھر ہماری جماعت کے ہزار ہا افراد ہیں جو تبلیغ کے متعلق تجربہ رکھتے ہیں اس خطبہ کے ذریعہ میں ان کو بھی تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی ایسے مضامین سے مطلع کریں جو ان کے نزدیک ضروری ہوں پھر جو لوگ ہندی اور گورمکھی وغیرہ زبانوں میں ترجمے کر سکیں وہ بھی اطلاع دیں تا اردو کے مضامین ان کو دیئے جائیں اور وہ ان کا ترجمہ کر دیں مگر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ صرف وہی لوگ اطلاع دیں جن کو کام کرنے کی فرصت ہو۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ اپنے نام پیش کر دیتے ہیں لیکن جب انہیں کام دیا جائے تو عدیم الفرصتی کا عذر پیش کر کے گھنٹوں کا کام دنوں پر اور دنوں کا کام مہینوں پر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح کام کا حرج ہوتا ہے۔پس جو لوگ مختلف زبانوں میں ترجمہ کر سکیں اور ترجمہ کرنے کے لئے فرمت بھی رکھتے ہوں ، اطلاع دیں اور جو ایسے لوگوں کے پتے بتا سکیں جن کو معاوضہ دے کر مختلف زبانوں میں ان سے تراجم کرائے جاسکیں ، وہ بھی براہ راست مجھے یا دفتر تحریک جدید کو اطلاع دیں۔پھر وہ دوست جو لیکچر دے سکتے ہیں وہ اپنے ناموں سے مطلع کریں۔میں نے پہلے بھی یہ تحریک کی تھی مگر شرط یہ تھی کہ اعلیٰ عہدوں کے لوگ اپنے نام پیش کریں مگر اب یہ شرط بھی اُٹھاتا ہوں پس ہر شخص جو لیکچر دے سکتا ہو خواہ گاؤں میں ہی دے سکتا ہو مجھے اطلاع دے۔اگر تین چار ماہ تک بھی اس اہتمام کے ساتھ تبلیغ کی جائے تو اس طرح طبائع دوسری طرف متوجہ ہو جائیں گی اور جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف افتراء پردازیوں سے کام لیا جا رہا ہے تو وہ ضرور افتراء پردازوں سے نفرت کرنے لگیں گے۔خدا کے فضل سے اس کام کے لئے ہمارے پاس روپیہ موجود ہے اور گو بجٹ کے مطابق نہیں مگر اس کے قریب قریب ہے اس لئے ہم بغیر روپے کے انتظار کے کام شروع کر سکتے ہیں اس کے لئے بجٹ میں گنجائش بھی ہے اور اگر کام زیادہ بڑھ گیا اور بجٹ سے زیادہ خرچ ہوا تو میں امید رکھتا ہوں کہ دوست اپنے وعدے پورے کر دیں گے اور وعدوں کی رقوم ملا کر بجٹ سے زیادہ رقم ہو جاتی ہے۔اشتہاروں کے متعلق ایک نصیحت میں کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اشتہار تقسیم کرنا نہیں جانتے وہ کسی گلی یا گزرگاہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کو بغیر یہ دیکھے