خطبات محمود (جلد 16) — Page 326
خطبات محمود ۳۲۶ سال ۱۹۳۵ء کہ وہ پڑھا لکھا ہے یا نہیں یا شوق اور دلچپسی رکھتا ہے یا نہیں دیتے چلے جاتے ہیں یا ریلوے سٹیشن پر جا کر یونہی تقسیم کر دیتے ہیں لیکن اس طرح اشتہار ضائع ہوتے ہیں۔اشتہارات کی اشاعت پر خرچ کافی آتا ہے اگر چار صفحہ کا ایک اشتہار میں ہزار کی تعداد میں شائع کیا جائے تو اس پر قریباً اسی روپے لاگت آئے گی اور بھیجنے بھیجوانے پر ۷۰ ، ۸۰ روپے اور لگ جائیں گے۔گویا قریباً پونے دو سو روپے لاگت آئے گی اور موجودہ حالات کے لحاظ سے ہمیں بعض اشتہارات دو دو، تین تین ، چار چار لاکھ شائع کرنے چاہئیں لیکن اگر ایک لاکھ بھی کریں تو اس سے پانچ گنا زیادہ رقم خرچ ہوگی اور اس قدر کثیر اخراجات برداشت کرنے کے بعد اگر اشتہارات ضائع ہو جائیں تو یہ کس قدر افسوس کی بات ہے۔اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گویا ہم خود اپنی طاقت کو ضائع کر رہے ہیں اس لئے میں اس بارہ میں دو نصیحتیں کرتا ہوں ایک تو یہ کہ جو دوست اشتہار خرید سکتے ہوں وہ خرید کریں تا ان کے ثواب کا سلسلہ جاری رہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے تحریک جدید میں چندہ دے دیا ہے اب کیا ضرورت ہے کچھ خرچ کرنے کی۔جن کو طاقت ہو وہ ضرور خریدیں تا آئندہ اخراجات کے لئے روپیہ آتا رہے۔پھر جو پوری قیمت ادا نہ کر سکیں وہ جس قدر بھی ممکن ہو اس مد میں بھیج دیا کریں اور کم سے کم دسواں حصہ بھی دیا جا سکتا ہے اور اس طرح ۱۲ ہزار روپیہ اس کام پر تحریک جدید سے خرچ کیا جائے تو اتنا ہی جماعت سے وصول کیا جا سکتا ہے پس گو یہ اشتہار مفت تقسیم کے لئے ہی چھپیں گے مگر جن دوستوں کو توفیق ہو وہ اس بوجھ کو اُٹھانے کی کوشش کریں۔اور جو اپنے حصہ کا سارا بوجھ نہ اٹھا سکیں وہ جس قدر ممکن ہو اُٹھا ئیں اور اس طرح تبلیغ کا ثواب حاصل کریں۔دوسری بات اس بارہ میں یہ ہے کہ ایک ایک اشتہار کو قیمتی چیز سمجھا جائے اور زیادہ سے زیادہ وسیع رقبہ میں انہیں پھیلانے کی کوشش کی جائے۔دوست سائیکلوں پر سوار ہو کر جائیں اور اردگرد کے علاقہ میں دُور دُور تقسیم کریں۔گاؤں میں کسی محفوظ جگہ ایک دفعہ کا اشتہار لگا ہوا کئی کئی ماہ بلکہ سالوں تک لگا رہتا ہے اور گاؤں والے اسے قیمتی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں پڑھنے کے لئے عام طور پر کتب اور اخبار وغیرہ نہیں مل سکتے پس اگر دیہات میں جا کر مساجد کے دروازہ پر یا کسی دکان پر ایک دواشتہار بھی لگا دیئے جائیں تو ان سے بہت کافی تبلیغ ہو سکتی ہے یا گاؤں میں اگر کوئی طبیب ہو تو اسے یا نمبر دار کو یا دکاندار کو دے آئیں تو اس سے تبلیغ ہو سکتی ہے وہ خود پڑھے گا اور دوسروں کو پڑھ کر