خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 324

خطبات محمود ۳۲۴ سال ۱۹۳۵ء اشتہارات کے سلسلہ کو اور عام پبلک تبلیغ کے سلسلہ کو اُس وقت تک ملتوی کیا تھا جب تک ہمارے خلاف جوشوں میں تغیر پیدا ہو جائے۔جوش کی حالت میں لوگ بجائے پڑھنے اور سننے کے اشتہارات پھاڑ دیتے اور لیکچر سننے سے گریز کرتے تھے مگر اب اس کیفیت میں تبدیلی ہورہی ہے اور جو اطلاعات مجھے مل رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ دوست اب اس طرف زیادہ توجہ کریں۔میری تجویز ہے کہ ایک طرف تو اشتہارات کا سلسلہ زیادہ وسیع کیا جائے اور دوسری طرف لیکچروں کے سلسلہ کو وسعت دی جائے اس کے لئے آج اس خطبہ کے ذریعہ میں دوستوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ ہر جماعت اپنے اپنے ہاں تبلیغی جلسے کرائے لیکن جہاں تک ممکن ہو مباحثات سے بچنے کی کوشش کی جائے کیونکہ مباحثات حق کو چھپا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اگر چہ مباحثات کیا کرتے تھے مگر آخر میں آپ کو الہاما مباحثات سے روک دیا گیا اور گو اس الہام میں ہمارے لئے ممانعت نہیں لیکن ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگر مباحثات مفید ہوتے تو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان سے نہ روکتا۔مباحثات گو مجبوری کی حالت میں جائز ہیں مگر عام حالات میں ان کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ دوسرے فریق کو ضد میں اور پختہ کر دیتے ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک جماعت مہینہ میں ایک بار جلسہ ضرور کیا کرے۔ہماری با قاعدہ جماعتیں سات سو کے قریب ہیں اور دیہات بھی کئی ہزار ایسے ہیں جہاں احمدی ہیں اور اس طرح جماعتوں کی تعداد کئی ہزار تک جا پہنچتی ہے اگر ہر جگہ ایک ماہ میں ایک جلسہ کیا جائے جس میں اگر مرکزی مبلغ پہنچ سکیں تو پہنچ جائیں نہیں تو ارد گرد کے علاقہ سے تقریریں کر سکنے والے دوست شریک ہو جائیں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مقامی لوگ ہی تقریر میں کریں تو اس طرح ایک ماہ کے اندر اندر کئی لاکھ لوگوں تک احمدیت کی تبلیغ پہنچ سکتی ہے۔اسی طرح میرا ارادہ ہے کہ کثرت سے اشتہارات بھی پھیلا دیئے جائیں جو زیادہ تر تو اُردو میں ہوں مگر ہندوؤں اور سکھوں کو آگاہ کرنے کے لئے ہندی اور گورکھی میں بھی ہوں کیونکہ ہندوؤں اور سکھوں کو بھی احراریوں نے ہمارے خلاف بہت بھڑکا رکھا ہے اور ان کے سامنے ہمارا ایسا بھیانک نقشہ رکھا ہے کہ گویا ہم ملک کے اور ان کے دشمن ہیں حالانکہ ہم ملک کے اور اہلِ ملک کے احراریوں سے بہت زیادہ خیر خواہ ہیں۔پس ضروری ہے کہ ان لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لئے ہندی اور گور رکھی میں بھی اشتہارات شائع کئے جائیں بلکہ بنگالی ، مدراسی اور ہندوستان کی دوسری