خطبات محمود (جلد 16) — Page 203
خطبات محمود ۲۰۳ سال ۱۹۳۵ء وہاں بھی پھر کیوں ایسی جگہ نہ مریں جہاں مرکر خدا کی رضا حاصل ہو۔بے شک کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو غیر ممالک میں جاتے ہیں تو اپنے علمی زور سے رزق کما لیتے ہیں مگر جب تک ہماری جماعت پر یہ زمانہ نہیں آتا کہ ہم اپنے علمی لوگ فارغ کر کے غیر ممالک میں بھیج سکیں اُس وقت تک جماعتی طور پر ضرورت ہے کہ ہم باہر جائیں اور غیر ممالک کے لوگوں کو احمدیت میں داخل کریں۔یا د رکھو خدا تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہم زمین میں پھیلیں اور احمدیت کی تبلیغ کریں میں نے اس تحریک کے ذریعہ اس کی ابتدا کر دی ہے اسی طرح جس طرح باغ لگانے والا پنیری تیار کرتا ہے اور یہ ارادہ کیا ہے کہ سر دست چند آدمی ایسے تیار کریں جو مختلف ممالک میں جائیں اور احمدیت کا بیج بوئیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اکثر لوگ باہر جائیں اور مختلف ممالک میں پیغامِ احمدیت پہنچانے لگ جائیں۔دراصل ہمارے لئے اس بات کا جاننا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ کس ملک کو اللہ تعالیٰ نے اشاعتِ احمدیت کا مرکز قرار دیا ہے۔قادیان کا مرکز بنایا جانا محض اس بات کی دلیل ہے کہ قادیان قابلیت رکھتا ہے لیڈری کی اور قادیان قابلیت رکھتا ہے پنیری کی تیاری کی مگر یہ ضروری تو نہیں کہ یہ باغ کے بڑھنے کے لئے بھی اچھی جگہ ہو۔جو قابل لیڈر ہوضروری نہیں ہوتا کہ وہ اچھا سپاہی بھی ہو بعض جرنیل بڑے اچھے ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں سپاہی بنا دیا جائے تو ناقص ثابت ہوتے ہیں اسی طرح بعض قابل سپاہی ہوتے ہیں لیکن انہیں جرنیل بنادیا جائے تو ناقص ثابت ہوتے ہیں۔پس قادیان کو مرکز بنا دینے کے یہ معنی نہیں کہ یہاں جماعت بھی زیادہ پھیلے گی پچاس سال کے قریب سلسلہ احمدیہ پر گزر گئے مگر ابھی تک یہاں غیر احمدی موجود ہیں اور ان میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ہما را شدید دشمن ہے اور نہ اس نے احمدیت قبول کی ہے اور نہ وہ احمدیت قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔پھر وہ اتنا گند اُچھالنے والا اور اتنا جھوٹ بولنے والا طبقہ ہے جو بات ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی وہ اسے ہماری طرف منسوب کر دیتا ہے مکہ میں بھی دیکھ لو یہی حالت تھی۔چنانچہ مکہ میں اس سرعت سے اسلام نہیں پھیلا جس سُرعت سے مدینہ میں پھیلا۔رسول کریم ﷺ کی تیرہ سالہ تبلیغی مساعی کا یہ نتیجہ تھا کہ اتنی یا بعض روایات کی رو سے تین سو افراد آپ پر ایمان لائے مگر مدینہ میں دو سال کے اندر سارے مدینہ نے اسلام قبول کر لیا تو بعض مقام لیڈری کے لحاظ سے مرکز ہوتے ہیں اور بعض اشاعت کے لحاظ سے مرکز ہوتے ہیں اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے