خطبات محمود (جلد 16) — Page 204
خطبات محمود ۲۰۴ سال ۱۹۳۵ء رسول کریم ﷺ کی وفات پر انصار نے یہ کہا تھا کہ جب قبول اسلام میں ہم زیادہ ہیں تو خلافت کے اہل بھی ہم ہی ہیں حالانکہ مکہ لیڈری کے لحاظ سے مرکز تھا اور مدینہ اشاعت کے لحاظ سے اسلامی مرکز تھا اور اشاعت میں زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے کوئی قوم لیڈری کے قابل نہیں بن سکتی۔پس قادیان میں یا ہندوستان میں مسیح موعود کے نزول کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہندوستان اشاعتِ احمدیت کے قابل ہے بلکہ ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے صرف یہ معنی ہیں کہ یہ ملک لیڈری کا اہل ہے اور اسی لئے مسیح موعود یہاں مبعوث ہو الیکن ہمیں ابھی ایک مرکز اشاعت کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس زمانہ میں احمدیت کے لئے ایک مدینہ کے مثیل کی تلاش کریں ایسا ملک ہمیں میسر آئے جو احمدیت کے لئے اپنے ہاتھ کھول دے اور خدا تعالیٰ کے دین کیلئے اس کے دل کی کھڑکیاں کھلی ہوں اور وہ اس نور کے حاصل کرنے کیلئے بیتاب ہو جو اس زمانے میں خدا تعالیٰ نے ظلمت کے دور کرنے کیلئے نازل فرمایا ہے اور یہ نوجوانوں کا کام ہے کہ وہ نکلیں اور تلاش کریں کہ کون سا ملک ہمارے لئے مدینہ کا مثیل ثابت ہوتا ہے۔یہی وہ امر ہے جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ جاؤ اور دنیا میں پھیل جاؤ۔وَابْتَغُوا مِنْ فَضْل الله اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو یہاں بتا یا نہیں کہ کون سا ملک ایسا ہے جو احمدیت کو زیادہ قبول کرے گا بلکہ اسے تلاش کرنا اللہ تعالیٰ نے ہم پر چھوڑ دیا ہے۔رسول کریم اللہ کے زمانہ میں تو الہا ماً خدا تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ مدینہ اشاعت اسلام کے لئے اچھا مقام ہے لیکن یہاں چونکہ نشر و اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ مقدر ہو چکا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت پھیلائے اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بتا دیتا کہ احمدیت کی اشاعت کے لئے فلاں ملک موزوں ہے تو ہم سارے وہاں جا کر اکٹھے ہو جاتے اور باقی ممالک میں احمدیت پھیلانے سے غافل ہو جاتے اس لئے آج خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ہم جائیں اور دنیا میں گھوم کر وہ ملک تلاش کریں جو احمدیت کے لئے مثیل مدینہ کا کام دے۔اس مقصد کے ماتحت جب ہم دنیا کے تمام ممالک میں پھریں گے تو ہر ملک میں احمدیت کا بیج ہوتے جائیں گے اس طرح خدا تعالیٰ کا یہ منشاء بھی پورا ہو جائے گا کہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت پھیلے اور آخر ہمیں وہ مقام بھی نظر آ جائے گا جسے ہم تلاش کرنے کے لئے نکلے ہوں گے۔ہم جاپان