خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 202

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء جاؤ اس کی تعلیم پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ اور اس کے ان مسائل سے آشنا ہو جاؤ جن کو وہ دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے تو پھر تمہارا یہ کام ہے کہ تم اپنے وطن چھوڑ دو اور دوسرے ملکوں میں زمین کے کناروں تک اس کی تبلیغ کے لئے نکل جاؤ۔یہ موت ہے جو اس زمانہ کے احیاء کے لئے خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہے۔یہ جوڑ ہے اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ ہے۔ورنہ بھلا یہود کے ذکر ، تو رات کے نزول اور جمعہ کے بیان کا آپس میں تعلق ہی کیا ہو سکتا ہے۔بعض مفسرین نے يَوْمُ الْجُمُعَة سے سبت کا ذکر مرا دلیا ہے۔بے شک یہ مراد بھی لی جا سکتی ہے لیکن چونکہ سبت ایک محمد ودسوال ہے ضروری ہے کہ اس کے سوا کوئی زیادہ وسیع معنی بھی اس کے ہوں۔پھر اس زمانہ کے یہود نے تو سبت کو چھوڑا بھی نہیں بلکہ آج کل تو وہ اسے بہت زیادہ منانے لگ گئے ہیں دراصل پہلے چونکہ موت کا ذکر تھا اس لئے بعد میں آکر بتایا کہ تم بھی اس زمانہ میں یہود کے مثیل ہو جاؤ گے اور یہ واقعہ ساتویں ہزار سال میں ہوگا اس وقت تم اگر دوبارہ زندگی چاہتے ہو تو تمہارا کام یہ ہے کہ پہلے مسیح موعود کی آواز سن کر اس کے پیچھے چلو اور اس کی تعلیم پر عمل کرو پھر دنیا میں اس کی تعلیم پھیلانے کے لئے نکل جا وَوَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ اور اللہ تعالیٰ کا وہ فضل تلاش کرو جس کے نتیجہ میں تمہاری تمام تکالیف، ذلت اور رسوائیاں دور ہو جائیں۔یہی وہ چیز ہے جسے میں نے اپنی نئی تحریک میں پیش کیا ہے اور جسے بار بار میں جماعت کے سامنے لا رہا ہوں۔ہمارے ہندوستان کے لوگوں میں یہ مرض ہے کہ وہ ایک جگہ سمٹ کر بیٹھنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ موجودہ زمانہ میں ہم سے یہ چاہتا ہے کہ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ ہم باہر جائیں اور زمین میں پھیل کر تبلیغ احمدیت کریں اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس میں موت نظر آتی ہے اور اسی لئے موت کو ہلکا کرنے کے لئے ہم نے کہا کہ ہم غیر ممالک میں جانے والوں میں سے بعض کو کرایہ دے دیں گے یا چھ چھ ماہ وہاں رہنے کا خرچ دے دیں گے یہ تمام باتیں موت کو ہلکا کرنے والی ہیں کیونکہ جسے امید ہو کہ اُسے باہر جانے کے لئے کرا یہ مل جائے گا اور امید ہو کہ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے لئے خرچ بھی مل جائے گاوہ کسی قدر اپنی موت سے بے فکر ہو جاتا ہے لیکن اصل قربانی انہی لوگوں کی ہے جو موت کے منہ میں اپنے آپ کو ڈال دیتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب کئی فقیر دنیا میں بھیک مانگتے ہیں تو ہم بھی بھیک مانگ کر اپنا گزارا کرلیں گے یا مزدور مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں تو ہم بھی مزدوری کر کے اپنا پیٹ پال لیں گے پھر اگر مرنا ہے تو یہاں بھی مرنا ہے اور