خطبات محمود (جلد 16) — Page 192
خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۵ء پر جاری ہوا اُس وقت میں نے اپنے آپ کو اس طرح محسوس کیا جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کی بغل میں ہوتا ہے یا ایک عاشق اپنے محبوب کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔میرے جسم کا ذرہ ذرہ ایک لطف محسوس کر رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ گویا میں خدا تعالیٰ کے سامنے پڑا ہو ا کہہ رہا ہوں کہ :۔ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا غرض اب یہ جو ۱۶ تاریخ آنے والی ہے اس کے بعد کے ہفتے سے ہر جمعرات کو سات ہفتوں تک روزہ رکھا جائے اور خصوصیت سے یہ دعائیں کی جائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی نصرت کے سامان ہمیں عطا فرمائے اور اگر ہماری کمزوریاں اس کے فضلوں کے نازل ہونے میں مانع ہیں تو وہ ملک ہمیں اپنی ملکیت عطا فرمائے ، وہ قدوس ہمیں اپنی قدوسیت عطا فرمائے ، وہ عزیز ہمیں اپنی عزیزیت بخشے اور وہ حکیم ہمیں اپنی حکمت عنایت کرے۔بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہم کام اسی کا کر رہے ہیں اور نام بھی اسی کا باقی رہے گا ہم مٹ جائیں گے اس دنیا میں نہ وہ رہیں گے جو آج ہماری مخالفت کر رہے ہیں نہ ہم رہیں گے جو خدا تعالیٰ کا نام پھیلا رہے ہیں مگر ہم بھی اور وہ بھی جو ان میں سے ہمارے ساتھ مل گئے دائمی حیات کے وارث ہوں گے اور مخالف محروم رہیں گے پس ہمارے ہاتھوں جو کام ہو گا وہ اگر چہ خدا تعالیٰ کا ہی ہے مگر ہمیں دعائیں کرنی چاہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دُور فرمائے۔اور دشمن کو جو شرارت کر رہا ہے ہدایت دے ہم اس کے لئے بددعا نہیں کرتے اور نہ کریں گے مگر ہم اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ یا تو وہ انہیں ہدایت دے اور جن کے لئے مقدر نہیں ان کے ہاتھوں کو روکے اور ان کی شرارتوں سے اسلام اور احمدیت کو محفوظ رکھے۔الفضل ۹ ، ۱۰ / مارچ ۱۹۳۵ء) الجمعة: ۷ تا ۹ الجمعة: ۶ البقرة: ۲۷ ۴ متی باب ۱۲ آیت ۳۴ برٹش اینڈ فارن بائیل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء۔۵ متی باب ۵ آیت ۳۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء۔عبرانیوں باب ۱۲ آیت ۸ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء۔ك البقرة : ۲۴۵،۲۴۴ ابوداؤدكتاب الوتر باب ما يقول الرجل اذا خاف قومًا۔